23 دسمبر کا جلسہ محض اجتماع نہیں، عوامی شعور کی تحریک تھا: خرم نواز گنڈاپور
قانونی و انتخابی اصلاحات کے بغیر سیاسی استحکام نہیں آئے گا
عوامی تحریک سمجھتی ہے اصلاحات ناگزیر ہیں: سیکرٹری جنرلPAT

لاہور (23 دسمبر 2025) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ 23 دسمبر 2012 کا دن پاکستان کی تاریخ میں عوام کی آئینی بیداری اور قانون کی بالادستی کی جدوجہد کی روشن علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ دن یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کے شہری ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں آئین بالاتر ہو اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔
انہوں نے کہا کہ 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان پر پاکستان عوامی تحریک کا یادگار جلسہ دراصل اس مطالبے کا عملی اظہار تھا کہ ملک میں جامع قانونی و انتخابی اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ انتخابی نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان عوامی تحریک آئین و قانون کی بالادستی کے قیام اور حقیقی جمہوری نظام کے قیام کےلئے اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئےہے۔ ملک میں پائیدار جمہوریت، شفاف حکمرانی اور عوامی حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کی روح کے مطابق قانون کی عملدرای یقینی بنائی جائے۔ انتخابی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جائیں۔
پاکستان عوامی تحریک نے 23 دسمبر 2012 کے جلسے کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا تھا کہ شفاف سیاسی نظام قوم کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سیاسی و انتخابی نظام عوام کی حقیقی نمائندگی سے قاصر ہے جس کے باعث بدعنوانی، نا انصافی اور طاقتور طبقوں کی اجارہ داری فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کے بغیر صاف، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں جبکہ یہی جمہوری استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے تا ہم ان حقوق پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی انصاف، تعلیم، صحت اور روزگاری جیسی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان عوامی تحریک پر امن آئینی اور جمہوری طریقوں سے اصلاحات کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ 23 دسمبر کا جلسہ محض ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک فکری تحریک تھی، جس نے عوام کو یہ شعور دیا کہ ووٹ کی حرمت اور دیانتدار قیادت ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔


تبصرہ