قاضی فائز عیسیٰ کمیشن رپورٹ پر وزارت داخلہ کا جواب توہین آمیز ہے : عوامی تحریک
توہین آمیز جواب پانامہ لیکس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے اور ڈرانے کی کوشش ہے
ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ کیخلاف بھی جسٹس باقر علی نجفی کی کردار کشی کی گئی تھی :
خرم نواز گنڈا پور

لاہور (04 فروری 2017) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ پر وزارت داخلہ کے مبینہ جواب کو توہین آمیز اور ناشائستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ وزارت داخلہ کا ردعمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے یہاں مرکزی سیکرٹریٹ میں عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ میں حکومت کو آئینہ دکھایا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ نواز لیگ دہشتگردوں کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور کالعدم تنظیمیں انتخابات میں انکی سیاسی اتحادی ہوتی ہیں اور قومی ایکشن پلان کو سبو تاژ کرنے کے حوالے سے حکمران جماعت نے انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ فوجی عدالتوں کو توسیع نہ دئیے جانے کا تعلق بھی اسی سوچ سے ہے۔
انہوں نے کہاکہ ن لیگی حکمرانوں کو جو رپورٹ پسند نہیں آتی اس پر گالم گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔ ن لیگ سیاسی مافیا کا روپ دھار چکی ہے، اسی قسم کا ردعمل سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد دیا گیا اورجسٹس باقر علی نجفی کی کردار کشی کی گئی اور ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کوآج کے دن تک منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ وزارت داخلہ نے جو توہین آمیز جواب دیا ہے اسکا تعلق پانامہ لیکس کیس سے ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا بنچ پانامہ لیکس کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہا ہے جس کے حکمران خاندان کے پاس جوابات نہیں ہیں۔
وزیر اعظم گرفت میں آنے کے خوف میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت وفاقی وزراء ججز پر بالواسطہ حملہ آور ہو رہے ہیں، انہیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد پانامہ لیکس کیس کے فیصلے پر اثر انداز ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ’’لوہے کے چنے‘‘ والی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عدالتیں سانحہ ماڈل ٹاؤن اور پانامہ لیکس پر قانون کے مطابق فیصلے دیں۔ قوم ن لیگی غنڈوں سے خود نمٹ لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریف برادران کو سبق سکھانے کیلئے باقر نجفی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا منظر عام پر آنا ضروری ہے۔


تبصرہ