انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ویڈیوز پیش، اے ٹی سی جج نے بھی دیکھیں
وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر مستعفی ہونے کی ویڈیو بھی اے ٹی
سی میں دیکھی گئی
پولیس اہلکاروں کی طرف سے وحشیانہ فائرنگ کے مناظر پر کمرہ عدالت میں سکتہ، مزید
سماعت 25 جنوری کو ہو گی

لاہور (20 جنوری 2017) سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں جمعہ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں عوامی تحریک کے وکلاء نے سانحہ کے متعلق ویڈیوز کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جسے اے ٹی سی کے جج چودھری محمد اعظم نے تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ عوامی تحریک کے وکلاء نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی 17 جون 2014 ء کی شام کو ہونے والی پریس کانفرنس کی ویڈیو بھی پیش کی جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر عدالتی کمیشن نے مجھے ذمہ دار ٹھہرایا تو میں فوراً مستعفی ہو جاؤں گا۔ پولیس کی براہ راست فائرنگ اور خواتین کی شہادت کے مناظر دیکھ کر کمرہ عدالت میں سکتہ چھا گیا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکار سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی رہائش گاہ اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے اندر سیدھی فائرنگ کررہے ہیں اور اس موقع پر پولیس افسران اہلکاروں کو فائرنگ کے احکامات دے رہے ہیں جن کی ریکارڈنگ عدالت میں پیش کی گئی۔
عوامی تحریک کے وکلاء پینل کے سربراہ رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک ایسا واقعہ ہے جس کے حوالے سے تیاری سے لیکر اختتام تک کے جملہ ثبوت قومی میڈیا کے ذریعے پوری قوم کے سامنے ہیں اور نیشنل الیکٹرانک میڈیا نے پولیس گردی کے جملہ مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے ہیں۔ رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یزید نے اہل بیت اطہار کی شہادتوں پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ اہل بیت اطہار پر مظالم ڈھانے والے بدبختوں کو تحفظ دیا جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ وہ اس میں ملوث تھا۔ اگر وہ شریک جرم نہ ہوتا تو کرہ ارض کے اس اندوہناک سانحہ کے ملزمان کو عبرتناک سزائیں ضرور ملتیں اور وہ اپنے دامن پر لگے دھبے ضرور دھوتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا؟ کیونکہ وہ اس کاماسٹر مائنڈ تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب بتائیں اگر وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث نہیں تو پھر وہ دو سال گزر جانے کے بعد بھی اس پر خاموش کیوں ہیں؟ اور سانحہ میں ملوث ملزموں کو تحفظ کیوں دے رہے ہیں؟ اگر شریف برادران اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ نہیں تو پھر وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں تحفظ کیوں دے رہے ہیں اور انہیں نواز کیوں رہے ہیں؟ انہیں پرکشش عہدے دے کر بیرون ملک کیوں بھیج رہے ہیں؟۔ سانحہ کے بعد کے حکمرانوں کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس کی تیاری میں بھی ملوث تھے اور اس سانحہ کو عملی جامہ پہنانے کے ہر مرحلہ پر بھی شریک تھے اور اعانت جرم کا یہ عمل آج کے دن تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن محض حادثہ نہیں تھا بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت برپا کیا گیا جس کے آڈیو ویڈیو ثبوت اور چشم دید گواہان کے بیانات ہم نے عدالت کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ عدالت میں عوامی تحریک کے وکلاء نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، مستغیث جواد حامد، اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ، یاسر خان ایڈووکیٹ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ کیس کی مزید سماعت 25 جنوری کو ہو گی اور عوامی تحریک کے وکلاء واقعاتی شہادتوں اور مختلف ثبوتوں کے حوالے سے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔


تبصرہ