وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں کے ترجمان بننے کی بجائے کارروائی کریں: عوامی تحریک
دہشتگردی کے مسئلہ پر وفاق اور صوبوں کے درمیان بداعتماد ی
کافائدہ دہشتگرد اٹھائیں گے، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر
نیکٹا کو بوجوہ غیر فعال رکھا گیا ہے، نوراللہ صدیقی، ساجد محمود بھٹی کا وزیر
داخلہ کے بیان پر ردعمل
لاہور (14 جنوری 2017) پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر ایس ایم ضمیر، نوراللہ صدیقی اور ساجد محمود بھٹی نے وزیر داخلہ چودھری نثار کے بیان پر اپنے شدید ردعمل میں کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان کو ناکام بنانے کے بعد وزیر داخلہ دہشت گردوں کی نئی تعریفیں کرنے سے گریز کریں اور مزید الجھاؤ پیدا مت کریں۔ اگر کوئی کالعدم گروہ حکمران جماعت کا سیاسی اتحادی ہے تو اس کی سزا پورے ملک اور قوم کو نہیں ملنی چاہیے۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کو سرد خانے کا حصہ بنانے کے بعد فوجی عدالتوں کی توسیع کو بھی روک دیا گیا اور اب وزارت داخلہ کالعدم تنظیموں کو روکنے کی بجائے ان کی ترجمان اور سہولت کار بن رہی ہے۔
ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے کہا کہ جب دہشت گردی کو روکنے کے ذمہ دار ادارے سہولت کار بن جائیں تو دہشت گردی کیسے رک سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیکٹا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قائم کیا گیا تھا جسے آج کے دن تک نہ مطلوبہ فنڈز دئیے گئے اور نہ افرادی قوت۔ نیکٹا کو غیر فعال رکھنے کا مقصد یہی تھا کہ دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے بروقت اقدامات بروئے کار نہ آسکیں اس کی سب سے بڑی مثال سندھ حکومت کی طرف سے وزارت داخلہ کو درجنوں مشتبہ مدارس کو بند کرنے سے متعلق لکھا جانے والا خط ہے اور وزارت داخلہ نے اس خط کا جوجواب دیا وہ ہے انتہائی تشویشناک اور قابل گرفت ہے۔ نوراللہ صدیقی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں ہے جو دہشتگردی کے خلاف ملک گیر آئینی، قانونی کردار ادا کر سکے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ نے حکمرانوں کے چہروں پر پڑے ہوئے تمام نقاب اور پردے ہٹا دئیے ہیں۔
ساجد محمود بھٹی نے کہا کہ حکمرانوں سے تمام تر اختلافات کے باوجود ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے قومی ایکشن پلان کی حمایت کی کیونکہ ہمارے نزدیک ملک اور قوم کا مفاد ہر چیز سے بالا تر ہے مگر دو سالوں کے اندر اندر حکمرانوں نے قومی ایکشن پلان کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ کرپشن اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ آج پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ وزیرداخلہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے کارروائی کرنے کی بجائے تنقید کرنے والوں کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپیکس کمیٹیوں کا کوئی وجود ہے تو وہ صوبائی وزیر قانون اور وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی اور کالعدم تنظیمات اور مشکوک مدارس کے حوالے سے وفاق اور صوبوں میں بداعتمادی کا فائدہ دہشتگرد اٹھائیں گے۔


تبصرہ