سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس جمہوری اور آئینی اقدار کے خلاف ہے: عوامی تحریک
عوامی نمائندوں کو کرپٹ سرکاری بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہیں
چھوڑا جا سکتا: خرم نواز گنڈا پور
پانامہ لیکس کے فیصلے کیلئے ایک سوال کا جواب اور چند گھنٹوں کا وقت درکار ہے :
سیکرٹری جنرل عوامی تحریک

لاہور (4 جنوری 2017) پاکستان عوامی تحریک کے کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے بدھ کو سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس جمہوری اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ عوامی نمائندوں کو کرپٹ سرکاری بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ خدا خدا کر کے بلدیاتی انتخابات ہوئے مگر یہ آرڈیننس منتخب نمائندوں کے کام میں روڑے اٹکانے اور آئیندہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تیاری کیلئے لایا جا رہا ہے۔ آرڈیننس نام نہاد جمہوری حکمرانوں کی شاہی سوچ کا عکاس ہے۔ پانامہ لیکس کے فیصلے کیلئے ایک سوال کا جواب اور چند گھنٹوں کا وقت درکار ہے۔
قوم کو افسوس ہے کہ کوئی ادارہ اس اہم قومی ایشو پر آئین کے تقاضوں کے مطابق تحقیقات نہیں کر رہا۔ وزیراعظم کا عہدہ خاص ہوتا ہے اس لئے احتساب بھی خاص انداز میں ہونا چاہیے۔ حکمران خاندان لندن فلیٹس کی خریداری کی منی ٹریل 9 ماہ بعد بھی نہ دے سکا۔ حکمران خاندان لندن فلیٹس کی خریداری کی منی ٹریل 9 ماہ بعد بھی نہ دے سکا، حالانکہ 9 ماہ ایک انسان کی تخلیق کی تکمیل کا عرصہ ہوتا ہے۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ 9 ماہ بعد بھی فیصلہ کیوں نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک میں بڑے مگر مچھوں کا احتساب نہیں ہو سکتا تو کرپشن کو سرکار ی تحفظ دے دیا جائے۔ حکمران خاندان وکیل بدل کر پانامہ کیس کو طوالت دینا چاہتے ہیں تا کہ عوام حکمران خاندان کی کرپشن کو بھول جائیں۔


تبصرہ