حکومت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو بند کرنے کا فیصلہ کر چکی: ڈاکٹر طاہرالقادری
سپریم کورٹ کے جسٹس کہتے ہیں ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا، وزیراعظم
کہتے ہیں دہشتگردوں کا صفایا کر دیا
فوجی عدالتوں کو متنازع بنانے کیلئے بل پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا اعلان کیا گیا،
سربراہ عوامی تحریک
رواں سال دہشتگردی کے 134 واقعات میں 9 سو سے زائد شہری جاں بحق ہوئے، اسے جنگ جیتنا
کہتے ہیں؟

لاہور (30 دسمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جاری نامکمل جنگ کو بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ خبردار کررہا ہوں یہ جنگ ادھوری چھوڑی گئی تو دہشت گردی کا اژدھا پلٹ کر حملہ آور ہو گا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس کہتے ہیں ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا، وزیراعظم کہتے ہیں دہشتگردوں کا صفایا کر دیا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ رواں سال 2016ء میں دہشت گردی کے لگ بھگ 134 واقعات میں 900 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 2015ء میں 12 سو سے زائد شہری دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ ہر سال ایک ہزار شہریوں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں اموات کون سی کامیابی اور کارکردگی ہے؟۔ وہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ٹیلیفون پر گفتگو کر رہے تھے۔
سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ حکومتی رکاوٹوں کے باوجود بہرحال فوجی عدالتوں نے دہشت گردوں کو سزائیں دیں اب فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہورہی ہے تو ساتھ ہی حکومت نے پس پردہ رہ کر ان عدالتوں کے خلاف منفی پراپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے اور اپنے دیرینہ حلیفوں اور ترجمانوں کو منفی پراپیگنڈا کرنے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کو متنازعہ بنانے کیلئے بل پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا اعلان کیا گیا اب اتفاق رائے کے نام پر تماشا اور فوجی عدالتوں کو توسیع دینے والا بل لمبی مدت کیلئے کسی کمیٹی کے سپرد ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ گڈگورننس اور قومی سلامتی کے تحفط کے حوالے سے حکومت کا یہ رویہ ہے کہ سپریم کورٹ کا جج وزیرداخلہ کو ملکی بقاء کے پلان قومی ایکشن پلان کو ناکام بنانے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے مگر وزیر موصوف کے خلاف کارروائی کی بجائے مذکورہ جج کو دھمکایا جارہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں اور دہشت گردوں کے درمیان خوشگوار تعلقات پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں۔ شریف برادران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باامر مجبوری شامل ہونا پڑا۔ حکومت نے قومی ایکشن پلان کو ناکام بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ مدارس کی رجسٹریشن ہو یا فروغ امن کا متبادل بیانیہ، غیر ملکی فنڈنگ کا خاتمہ ہو یا نیکٹا کا فعال کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنظیم نو ہو یا دہشت گردوں کی پناہ گاہ پنجاب میں فوجی آپریشن ہر موقع پر عملدرآمد ناکام بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ ان حقائق کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق پاکستان (قومی ایکشن پلان) سے غداری کرنے والے کہتے ہیں آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا گہرا تعلق ہے مگر آج کے دن تک وزیراعظم نے کلبھوشن کے خلاف کارروائی دور کی بات اس کا نام لے کر مذمت تک نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران دہشت گردی ختم کرنے کے لیے نہ پہلے سنجیدہ تھے نہ آج ہیں۔


تبصرہ