جب انصاف نہیں ملتا تو مظلوم قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں: خرم نواز گنڈاپور
قائداعظم کے پاکستان میں ماڈل ٹاؤن اور بلدیہ کراچی جیسے سانحات
کی کوئی گنجائش نہیں
17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں منصوبہ بندی کے مطابق قتل عام ہوا، مرکزی سیکرٹریٹ میں گفتگو

لاہور (25 دسمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ جب انصاف نہیں ملتا تو مظلوم قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ مظلوموں کو انصاف ملے گا تو عدالتوں پر مظلوموں کا اعتماد بحال ہو گا۔ قائداعظم کے پاکستان میں ماڈل ٹاؤن اور سانحہ بلدیہ جیسے سانحات کی کوئی گنجائش نہیں۔ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں منصوبہ بندی کے مطابق قتل عام ہوا۔ مرکزی سیکرٹریٹ میں رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پولیس سے مل کر حتی المقدور کوشش کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو پولیس کے ساتھ ایک عام جھڑپ کے طور پر پیش کیا جا سکے مگر ہم نے اس حکمرانوں اور پولیس کے اس دعویٰ کو جھٹلا دیا ہے اور تمام ثبوت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 17 جون کے دن ایوان وزیراعظم اور ایوان وزیراعلیٰ پنجاب سے ماڈل ٹاؤن کے وقوعہ کی مانیٹرنگ ہورہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وکلاء نے گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت میں ثبوت دئیے ہیں کہ بیریئر ہٹانے کی آڑ میں پولیس نے جعلی کارروائی کی حالانکہ یہ بیریئر خود ماڈل ٹاؤن پولیس کے ایس پی ایاز سلیم نے لگوائے تھے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو دہشتگردوں کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں پر ماڈل ٹاؤن پولیس نے سربراہ عوامی تحریک کی رہائش گاہ اور ادارہ منہاج القرآن کی حفاظت کیلئے 16 پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی بھی لگائی یہ اہلکار 17 جون 2014 ء کے دن تک ڈیوٹی انجام دیتے رہے۔ یہ کہنا کہ پولیس اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ بیریئر ہٹانے کے لیے آئی ایک گمراہ کن اور لغو کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا اصل پس منظر ڈاکٹر طاہرالقادری کی 23 جون 2014 ء کے دن پاکستان آمد کا اعلان تھا اور حکمران خوفزدہ تھے کے ڈاکٹر طاہرالقادری پاکستان میں آ کر حکومت کے ماورائے قانون اقدامات کیلئے چیلنج ثابت ہونگے جس پر 17 جون کو سربراہ عوامی تحریک کی رہائش گاہ پر ہلہ بول کر ان کے اہلخانہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے کارکنوں نے ناکام بنا دیا۔


تبصرہ