انصاف کی جدوجہد ریٹائر نہیں ہو گی، اللہ سب سے بڑا چیف ہے: ڈاکٹر طاہرالقادری
عدالتوں میں فرض کی ادائیگی کیلئے پیش ہو رہے ہیں، قصاص کیلئے سٹریٹ پاور بھی استعمال کرینگے
شریف برادران نے بیرون ملک جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کر لی ثبوت دینا انکی قانونی ذمہ داری ہے، خصوصی گفتگو
سکیورٹی لیک کومحض متنازعہ خبر قرار دیکر جے آئی ٹی کے فیصلے کا پیشگی اعلان کر دیا گیا، فیصلہ 2 کے مقابلے میں 5 کی اکثریت سے آئے گا

لاہور (13 نومبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ انصاف کیلئے جدوجہد کبھی ریٹائر نہیں ہو گی، اللہ سب سے بڑا چیف ہے۔ آرمی چیف انصاف نہ بھی دلا سکے تو کوئی بات نہیں، آخری سانس تک شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف دلوانے کیلئے لڑوں گا۔ عدالتوں میں فرض کی ادائیگی کیلئے پیش ہو رہے ہیں، بوقت ضرورت قصاص کیلئے سٹریٹ پاور کا آپشن استعمال کریں گے۔ وزیر داخلہ نے سرل لیکس کو سکیورٹی کا مسئلہ تسلیم کرنے سے انکار کر کے اسے محض متنازعہ خبر کہہ کر اپنا فیصلہ سنا دیا، جے آئی ٹی یہی فیصلہ 5 ووٹوں کی اکثریت سے سنائے گی صرف 2 ووٹ اختلافی نوٹ آئیں گے۔ حکمران خاندان نے بیرون ملک جائیدادوں اور کاروبار کی ملکیت تسلیم کو لی اب انکے قانونی دستاویزی ثبوت مہیا کرنا انکی ذمہ داری ہے۔ وزیر اطلاعات کو عارضی طور پر ہٹایا گیا، میری ذاتی رائے ہے کہ پانامہ لیکس اور سرل لیکس میں حکمرانوں کو کلین چٹیں مل جائیں گی تاہم کرپشن کے خاتمے اور احتساب کیلئے تحریک انصاف، جماعت اسلامی سمیت ان تمام جماعتوں کے ساتھ ہیں جو اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہیں۔
گزشتہ روز لندن سے انہوں نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ شریف برادران کے ذمہ 114 قصاص ہیں جس میں 14 جانیں اور 100 زخمی ہیں، اللہ کا حکم اور فیصلہ جان کے بدلے جان، کان کے بدلے اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ ہے۔ قانونی اور شرعی اعتبار سے میں قصاص معاف نہیں کر سکتا تا ہم انصاف دلوانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ قیامت کے روز اللہ کے حضور جو سب سے پہلا کیس پیش ہو گا وہ بے گناہ انسانی جان کے قتل کا کیس ہو گا۔ نا حق قتل کرنے اور کروانے والے کا ٹھکانہ جہنم اور اس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ شریف برادران جانتے ہیں کہ انہوں نے 14 بے گناہ قتل کروائے، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بننے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں قاتلوں کے نام اور پتے درج ہیں، اسی لئے جاری نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری تحریک قصاص کے تین فیز ہیں، پہلے فیز میں دو سو سے زائد شہروں میں احتجاج ہوا، دوسرا اور تیسرا مرحلہ بھی آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک مافیا ہے، ادارے سرنڈر کر چکے، بنی اسرائیل والا دور آ چکا ہے۔ انہوں نے سرل لیکس کے حوالے سے کہا کہ جہاں قومی سالمیت کو انصاف نہ مل رہا ہو وہاں قتل کے مقدمات میں عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا ؟سکیورٹی لیک کو ایک متنازعہ خبر قرار دے کرحکومت توہین آمیز رویہ اختیار کر رہی ہے، سرل لیک کے ذریعے فوج کے ادارے کو بدنام کیا گیا، یہ خبر چلی نہیں چلوائی گئی ہے اور آپریشن ضرب عضب اور فوج کے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ حکمران کبھی غیر جانبدار ججز پر مشتمل کوئی کمیشن یا جے آئی ٹی نہیں بننے دیں گے، یہ جسٹس باقر علی نجفی جیسے ججز کو مقرر کرنے والی دوبارہ کبھی غلطی نہیں کریں گے۔
پانامہ لیکس کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کا فیصلہ 7 دن کے اندر ہو سکتا ہے، بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں میں کونسا پیسہ استعمال کیا گیا اور اسکی منی ٹریل کیا ہے صرف ان ثبوتوں سے ہی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ قانون معاشرے کے کمزور طبقات اور افراد کے خلاف حرکت میں آتا ہے، طاقت وروں کو کلین چٹیں ملتی ہیں، انہوں نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ بلوچستان کے گھر سے75 کروڑ کیش نکلا، سندھ کے ایک وزیر کے گھر سے دو ارب کا کیش پکڑا گیا آج کے دن تک ان کرپشن کیسسز کا کیا نتیجہ نکلا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں 100 وکلاء شہید ہوئے، گذشتہ روز درگاہ شاہ نورانی پر دہشتگرد حملہ سے مزید 50 سے زائد جانیں چلی گئیں اس کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر جیسے اداروں میں حکمرانوں کے ملازم بیٹھے ہیں، پوری قوم کو اٹھنا ہو گا۔ حکومت کے نام پر بربریت اور جمہوریت کے نام پر آمریت کا تسلط ہے۔ الیکشن نہیں یہاں پر بدمعاشی ہوتی ہے۔ پیسے اور دھن دھونس والا جیتتا ہے، ہماری جدوجہد اسی ظالمانہ نظام کو بدلنے کیلئے ہے۔


تبصرہ