پنجاب حکومت نے ناکام منصوبے دینے کا ریکارڈ قائم کیا: عوامی تحریک پنجاب
غریب خاندانوں کو ایک ہزار روپیہ دینے کا ناکام منصوبہ فوڈ سپورٹ
پروگرام کی شکل میں ہو چکا ہے
سستی روٹی، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے بعد جنگلہ بس اور اورنج ٹرین بھی ناکام منصوبوں کی
فہرست میں شامل ہونگے
لاہور
(12 نومبر 2016) پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال نے کہا ہے کہ غذائی
قلت کے شکار بچوں کے والدین کو ماہانہ ایک ہزار روپے دینے کا پنجاب حکومت کا نیا منصوبہ
درحقیقت پرانا ناکام کرپٹ پروجیکٹ ہے جسے اب پھر نئے انداز کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش
کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے 2008 ء میں اقتدار سنبھالتے ہی پنجاب فوڈ سپورٹ پروگرام
کے نام سے کم آمدنی والے خاندانوں کو ایک ہزار روپے مالی مدد دینے کا منصوبہ شروع کیا
تھا جو 2 سال کے اندر اندر کرپشن، نااہلی کے باعث بند ہو گیا تھا اور اس منصوبے کے
باعث ملکی خزانے کو 14 ارب کا نقصان ہوا تھا۔ پنجاب فوڈ سپورٹ پروگرام کے ناکام منصوبے
کی آج تک انکوائری رپورٹ منظر عام پر آنے دی گئی اور نہ ہی آڈیٹر جنرل پاکستان کو اس
کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا گیا۔ اب ایک بار پھر نام بدل کر ایک اور واردات کرنے کی کوشش
کی جارہی ہے۔ وہ مرکزی سیکرٹریٹ میں تنظیم سازی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے
تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ناکام اور فراڈ منصوبے دینے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سستی روٹی، مکینیکل تنور، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، دانش سکول، گرین ٹریکٹر سکیم کی طرح اورنج ٹرین اور میٹرو بس بھی ناکام منصوبوں کی فہرست میں شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے سستی روٹی منصوبے پر 24 ارب خرچ کیے جو کرپشن اور نااہلی کی نظر ہوئے۔ ان 24 ارب میں سے 14 ارب روپے کمرشل بینکوں سے لیے گئے جن پر سستی روٹی پروگرام بند ہونے کے باوجود سود ادا کیا جارہا ہے۔ آڈٹ پیروں کے مطابق تنور بند ہونے کے بعد بھی ایک طویل عرصہ آٹے کی سپلائی جاری رہی اور وزیراعلیٰ پنجاب کہتے ہیں کرپشن ثابت کر کے دکھاؤ۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے ترقیاتی منصوبے قومی خزانے کو تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت کے تمام منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔


تبصرہ