پرویز رشید نے عدالت جانے کی دھمکی دی، حقائق کا جواب دینے کی جرات نہیں کی۔ ترجمان عوامی تحریک
لاہور
(04 ستمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ پرویز رشید نے عدالت جانے
کی دھمکی دی مگر ڈاکٹر طاہرالقادری کے حقائق کا جواب دینے کی جرات نہیں کی، وہ ذاتی
حیثیت کی بجائے سرکاری حیثیت میں عدالت جائیں غداری کے مزید ثبوت انکا استقبال کریں
گے۔ ترجمان نے کہا کہ صرف ڈاکٹر طاہرالقادری نہیں پاکستان کے محب وطن عوام، دانش ور،
صحافی، تجزیہ نگاریہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے کلبھوشن کی گرفتاری پر مذمت
کیوں نہیں کی؟ اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف سفارتی سطح پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں
نہیں کیں؟ انڈین ایجنسیوں اور حکومت سے پیسے لینے والے انکے اتحادی اور کار خاص کیوں
ہیں؟ پاکستان کو گالیاں دینے والوں کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں مذمت کا ایک حرف
بھی انکی زبان سے ادا کیوں نہیں ہوا؟ وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب
میں جانے پر بضد کیوں تھے اور خاندانی شادیوں میں انہیں مدعو کیوں کرتے ہیں۔ شریف خاندان
کی ملوں میں بھارتی ’’مین پاور‘‘ کی آؤ بھگت کیوں ہوتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے واقعات
کے بعد سانحہ کوئٹہ ہوا اس پر بھی وزیراعظم نے خاموشی کیوں اختیار کی؟ بھارت سے پیسے
لینے والے انکے اتحادی جب پاک فوج کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں تو وزیراعظم مذمت کرنے
کی بجائے زیر لب مسکراتے کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی خوشامد سے پرویز
رشید کا کچن چلتا ہے، اس خوشامدی کی الزام تراشی کی کوئی حیثیت نہیں یہ نتیجہ سے بے
خبر ہو کر ہمیشہ آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکتا ہے۔


تبصرہ