سانحہ ماڈل ٹاؤن، پانامہ لیکس سمیت عوامی تحریک کے وزیراعظم سے 6 سوال
پاکستان کو سڑکوں کے ٹھیکیدار نہیں رزق حلال کمانے اور کھانے والے
وزیراعظم کی ضرورت ہے
بے گناہوں کو قتل کیوں کیا؟ آف شور کمپنیاں کیوں بنائیں ؟ سا لمیت پر حملوں پر خاموشی
کیوں؟
لاہور (02 ستمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں نے وزیراعظم کے کالا شاہ
کاکو میں جلسہ عام سے خطاب کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس وقت قوم وزیراعظم سے 6 سوالوں
کے جواب مانگ رہی ہیں اور وہ جواب دینے کی بجائے پورے ملک میں بھاگتے پھر تے ہیں، جب
تک وہ قوم کے سوالوں کے جواب نہیں دینگے انکی روح بے چین رہے گی اور ہر گزرتے دن کے
ساتھ عوام کے احتجاج میں شدت آئے گی۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں خرم نواز گنڈا پور، بشارت
جسپال اور فیاض وڑائچ نے 6 سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
- وزیراعظم نے 17 جون 2014 کے دن دو خواتین سمیت 14 بے گناہوں کی جان کیوں لی اور پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج کیوں نہ ہونے دی اور دو سال گزر جانے کے بعد بھی شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف کیوں نہیں ملا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع کیوں نہیں ہونے دے رہے؟
- وزیراعظم اور انکے بچوں نے کس پیسے سے آف شور کمپنیاں بنائیں اور لندن میں محلات خریدے، 5 ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنی ’’حق حلال‘‘ کی کمائی کے ذرائع بتانے میں ناکام کیوں ہیں؟
- وزیراعظم نے 2013 کے الیکشن میں ڈیفالٹر نہ ہونے کا جعلی حلف نامہ الیکشن کمیشن میں کیوں جمع کرایا اور الیکشن کمیشن سے اثاثے پوشیدہ کیوں رکھے؟
- پاکستان کو گالی دئے جانے کے بعد سے لے کر آج تک وزیراعظم خاموش کیوں ہیں اور جنہوں نے پارلیمنٹ کے فلور پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ ابھی تک انکے اتحادی کیوں ہیں؟
- بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بلوچستان میں کھلی مداخلت کا اعتراف کیا، وزیراعظم نے اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟
- وزیراعظم بیرون ملک پڑا ہوا خاندانی سرمایہ پاکستان کب لائیں گے؟
خرم نواز گنڈا پور، بشارت جسپال اور فیاض وڑائچ نے کہا کہ یہ چھ سوال صرف ہمارے نہیں پوری قوم کے ہیں، انہوں نے کہاکہ پاکستان کو سڑکوں کا ٹھیکیدار نہیں ایک ایمان دار، محب وطن، راست گو اور خود اور پنے بچوں کو رزق حلال کما کر کھلانے والے وزیراعظم کی ضرورت ہے۔


تبصرہ