عوامی تحریک کا پنجاب حکومت کی مالیاتی کارکردگی پر حقائق نامہ، ترقیاتی بجٹ 48 فیصد استعمال نہ ہو سکا
اورنج لائن کے بجٹ کے استعمال کی شرح 95 فیصد، تعلیم، صحت کا بجٹ
50 فیصد کم استعمال ہوا
روزانہ 10 ہزار 5 سو، سالانہ 38 لاکھ جرائم ہوئے، 8سو ارب کا مقروض صوبہ کمپنیوں کے
ذریعے چل رہا ہے
آڈیٹر جنرل پاکستان نے کروڑوں کی بے ضابطگیاں پکڑ لیں، حقائق نامہ مرکزی میڈیا سیل
نے جاری کیا
لاہور
(11 جولائی 2016) پاکستان عوامی تحریک نے پنجاب حکومت کی مالی سال 2015-16 کی کارکردگی
کو مایوس قرار دیتے ہوئے حقائق نامہ جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اورنج لائن
منصوبے کیلئے مختص ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح 95فیصد سے زائد جبکہ تعلیم، صحت،
بہبود آبادی اور ماحولیات کے منصوبوں کیلئے مختص ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح 52فیصد
سے کم ہے، بیڈگورننس، مفاد عامہ کے منصوبوں میں عدم دلچسپی کے باعث پنجاب حکومت ترقیاتی
فنڈز کا 48 فیصد حصہ استعمال نہیں کر سکی۔ پنجاب کے ذمہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حجم
8سو ارب سے تجاوز کر گیا جن میں 5 سو ارب کے غیر ملکی قرضے شامل ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی،
مہنگائی، لاء اینڈ آرڈر کوکنٹرول کرنے، لوڈشیڈنگ کم کرنے، سکولوں اور ہسپتالوں کو بنیادی
سہولتوں کی فراہمی میں شہباز حکومت اپنے اقتدار کے مسلسل آٹھویں سال بھی ناکام رہی۔
دانش سکول، آشیانہ ہاؤسنگ ناکام منصوبے ثابت ہوئے، پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے
خلاف کسانوں، اساتذہ، کلرکوں، مزدوروں، نرسز اور دیگر عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے
رواں مالی سال 4 ہزار سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حقائق نامہ پاکستان عوامی تحریک
کے رہنماؤں بشارت جسپال، فیاض وڑائچ، بریگیڈیئر(ر) محمد مشتاق اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات
نوراللہ صدیقی نے جاری کیا۔
حقائق نامہ کے مطابقپنجاب میں روزانہ 10 ہزار 5 سو اور سالانہ 38 لاکھ 32 ہزار 5سو جرائم ہورہے ہیں۔ ماہانہ 2 سو اور سالانہ 25سو کے لگ بھگ شہری غربت، بیروزگاری کے باعث خودکشیاں کررہے ہیں، ججز کی سینکڑوں اسامیاں خالی اور لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں، خواتین کیلئے مختص بجٹ 10فیصد بھی استعمال نہیں ہو سکا، پنجاب حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی، بیروزگاری کی شرح 7فیصد ہے۔ 2سال کے بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا نہیں ملی۔ چھوٹو گینگ کے خلاف پنجاب پولیس نہ صرف کارروائی کرنے میں ناکام رہی بلکہ آئی پنجاب کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث 12 کے قریب پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے اور ناقص آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ حقائق نامہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ کے کم استعمال کی سب سے بڑی وجہ 18سے زائد محکموں کا چارج وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس ہونا ہے۔ پنجاب کی سالانہ ترقی کی شرح 4فیصد سے کم اور اندرونی و بیرونی قرضے ایک ہزار ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔ حقائق نامہ کے مطابق قائد اعظم سولر پارک کے 18 میگاواٹ کے منصوبے کے سوا پنجاب حکومت اپنے قیام کے آٹھ سالوں میں کوئی منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔ پنجاب کو ’’کمپنیوں ‘‘کے ذریعے چلایا گیا، مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن میں اضافہ ہوا، آڈیٹر جنرل پاکستان کی 2014-15 کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو کسی ایگری منٹ کے بغیر 11 ارب 55 کروڑ کا قرضہ دیاگیا، میٹ کمپنی کو غیر قانونی طور پر 1 ارب 59 کروڑ کا قرضہ دیا گیا، آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ان قرضہ جات کا وزارت خزانہ کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اس آڈٹ پیرے کے باوجود پنجاب حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، ایک اور آڈٹ پیرا جو رواں سال سامنے آیا اس میں نشاندہی کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کے ساتھی چین میں سٹیٹ گیسٹ تھے جبکہ کمرے کے کرائے کی مد میں لاکھوں روپے وصول کیے گئے، چین کے دوروں کیلئے 1 کروڑ 23 لاکھ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کی گئی جبکہ کھانااوررہائش حکومت چین کے ذمہ تھی۔ آڈٹ پیرے کے مطابق یہ دورے کن مقاصد کیلئے تھے ریکارڈ میں واضح نہیں ہے۔ آڈٹ پیرے کے مطابق افسران نے 30فیصد کی بجائے 100 فیصد ڈیلی الاؤنس وصول کیے، اخراجات کی رسیدیں اور متعلقہ دستاویزات آڈیٹر جنرل پاکستان کو فراہم نہیں کیا گیا، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ چین کے دوروں کے دوران کروڑوں روپے کے اخراجات کو چھپانے کیلئے وزیراعلیٰ آفس کا بجٹ استعمال کرنے کی بجائے پنجا ب بورڈ آف ٹریڈ کے فنڈز استعمال کیے گئے۔ سال 2015-16 ء کسانوں پر بہت بھاری رہا، کسانوں نے مال روڈ پر درجنوں احتجاج کیے، لانگ مارچ کیے اس کے باوجود انہیں 345 ارب کا پیکیج ملا اور نہ ہی انہیں ان کی اجناس کی پوری قیمت ملی۔ تاریخ میں پہلی بار کسانوں نے مال روڈ پر اپنی اجناس کو نذر آتش کیا۔ حقائق نامہ کے مطابق پنجاب حکومت نے اور نج لائن منصوبہ کیلئے بجٹ میں 46 ارب 24 کروڑ رکھے 46 ارب جاری کیے اور 41 ارب روپے استعمال ہوا، اورنج لائن کے منصوبے کے بجٹ کے استعمال کی شرح 95 فیصد سے زائد ہے، محکمہ صحت کیلئے راوں مالی سال 22 ارب کا بجٹ رکھا گیا18 ارب ریلیز کیے جبکہ استعمال ہونے والا بجٹ 11 ارب ہے۔ سکول ایجوکیشن کیلئے 20 ارب کا بجٹ رکھا گیا 15 ارب ریلیز کیے گئے استعمال ہونے والا بجٹ 10 ارب ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 11 ارب 25 کروڑ رکھے گئے 9 ارب ریلیز کیا گیا استعمال ہونے والا بجٹ 5 ارب ہے۔ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب کا بجٹ رکھا گیا 61 کروڑ جاری کیے گئے جبکہ استعمال ہونے والا بجٹ 8 کروڑ ہے۔ لٹریسی میں اضافہ کیلئے 1 ارب 86 کروڑ کا بجٹ رکھا گیا 1 ارب 21 کروڑ جاری کیے گئے جبکہ 70کروڑ روپے استعمال ہو سکے۔ سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کیلئے 3 ارب 12 کروڑ کا بجٹ رکھا گیا2 ارب 50 کروڑ ریلیز ہوا جبکہ 75 کروڑ روپے استعما ل ہو سکے۔ بہبود آبادی کیلئے 81 کروڑ 40 لاکھ کا بجٹ رکھا گیا 50 کروڑ جاری ہوئے40 کروڑ استعمال ہو سکے۔ پبلک پراسیکیوشن کیلئے 3 کروڑ 10 لاکھ کا بجٹ رکھا گیا2 کروڑ جاری کیے گئے 1 کروڑ استعمال ہو سکا۔ پولیس کا ترقیاتی بجٹ 4 ارب 10 کروڑ تھا 2 ارب جاری ہو سکاجبکہ استعمال ہونے والا بجٹ محض 20 کروڑ ہے۔ لیبر اینڈ ہیومین ریسورس کیلئے 60 کروڑ 50 لاکھ کا بجٹ رکھا گیا 24 کروڑ جاری ہوئے استعمال ہونے والا بجٹ 15 کروڑ 50 لاکھ ہے۔ ماحولیات کیلئے 5 کروڑ روپے رکھے گئے 1 کروڑ 18 لاکھ جارے ہوئے جبکہ صرف 18 لاکھ روپے استعمال ہو سکے۔


تبصرہ