لاہور پولیس قبضہ مافیا کی سرپرستی کررہی ہے : عوامی تحریک لاہور
عوامی تحریک کے رہنما چودھری سلطان کو اغواء کرنے کے بعد اس کے
پلاٹ پر قبضہ کر لیا گیا
تھانہ نشتر کالونی میں حبس بے جامیں رکھا گیا، اغواء کے خلاف درخواست کے باوجود کوئی
کارروائی نہیں ہوئی
17 جون کے احتجاج کے اعلان کے بعد انتقامی کارروائی شروع ہو گئیں، چودھری افضل گجر،
عارف چودھری
لاہور
(10 جون 2016) پاکستان عوامی تحریک لاہور کے سینئر مرکزی رہنما چودھری افضل گجر، عارف
چودھری، میاں افتخارنے مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
ڈاکٹر طاہرالقادری نے 17 جون کو مال روڈ پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ہی
حکمران جماعت نے لاہور پولیس سے مل کر ہمارے کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع
کر دی ہیں۔ عوامی تحریک کے رہنما چودھری سلطان کے موضع کاہنہ میں واقع خالی پلاٹ پر
قبضہ کر لیا گیا۔ یہ قبضہ مقامی پولیس کی معاونت سے ہوا۔ معزز ججز بھی آئے روز یہ ریمارکس
دیتے رہتے ہیں کہ پولیس قبضہ مافیا کی سرپرستی چھوڑ دے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سلطان محمود
نے کہا کہ 17 جون کے احتجاج کو کامیاب کرنے کیلئے سرگرمی دکھانے پر پہلے مجھے جان سے
مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پھر میرے پلاٹ پر قبضہ کر لیا گیامجھے اغواء بھی کیا
گیا جس کی درخواست تھانہ گلشن اقبال میں پڑی ہے مگر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نشتر کالونی پولیس نے مجھے متعد د بار گھر سے اٹھایا اور حبس بے جا
میں رکھا اس پر بھی کارروائی کیلئے پولیس کے اعلیٰ حکام کو درخواستیں دیں مگر کوئی
کارروائی نہیں ہوئی۔ انصاف کیلئے عدالت بھی گیا مگر پولیس ہر عدالتی حکم کو بھی ردی
کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہے۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ حکمران تکبر اور غرور
میں اندھے ہو چکے ہیں، ان کے اقتدار کے دن تھوڑے ہیں۔ حکمران اتنا ظلم کریں جتنا کل
کو برداشت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما چودھری سلطان کے ملکیتی پلاٹ سے قبضہ
واگزار کروایا جائے اور قبضہ مافیہ کی سرپرستی کرنے پر ایس ایچ او تھانہ نشترکے خلاف
کارروائی کی جائے۔


تبصرہ