وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر عوامی تحریک کا حقائق نامہ جاری
وزیر خزانہ کے دعوے جھوٹ کا پلندا، لوڈشیڈنگ کم ہوئی نہ بیروزگاری
ترقی کرنے والے ممالک کی درآمدات برآمدات 100 فیصد زیادہ نہیں ہوتیں
حکومت ہر سال دو ارب ڈالر غیر ملکی، ایک ہزار ارب ملکی قرضے لے رہی ہے
تین سال میں زرعی معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا، حقائق نامہ عوامی تحریک کے مرکزی رہنماؤں
نے جاری کیا
5 سال پرانے این ایف سی ایوارڈ پر بجٹ بنانا حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے
لاہور
(2 جون 2016) پاکستان عوامی تحریک نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر حقائق نامہ
جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے اپنی پریس کانفرنس میں جھوٹ بولا، کتابی باتیں
کیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہو تو
غربت کیسے کم ہو سکتی ہے؟ 5 سال پرانے این ایف سی ایوارڈ پر بجٹ بنانا صوبوں کے ساتھ
زیادتی اور حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے۔ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ کرنا موجودہ
حکمرانوں کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے امن بحال ہوا مگر حکمرانوں نے
آئی ڈی پیز کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ حکمرانوں
کے کرپشن اور لوڈشیڈنگ کم کرنے کے دعوے جھوٹ کا پلندا ہیں آج بھی دیہات میں 16، 16
گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، کرپشن میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ سالانہ 4 ہزار
ارب سے زائد کرپشن ہورہی ہے، 200 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑا ہے، پانامہ لیکس نے
کرپشن کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ نرسز، کسان، کلرک، مزدور، اساتذہ سڑکوں
پر سراپا احتجاج ہیں۔ حکمرانوں کی اصل کارکردگی یہی ہے۔ حقائق نامہ پاکستان عوامی تحریک
کے سینئر رہنماؤں خرم نواز گنڈاپور، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ اور
مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے جاری کیا۔
حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ معاشی بربادی کی صورت میں سامنے آیا۔ گندم، چاول اور کپاس کا کاشتکار حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا شکار رہا۔ کسانوں کو سستی بجلی، سستا ڈیزل، معیاری بیچ اور سستی کھادیں دینے کی بجائے 342 ارب کے ناکام پیکیج کا سیاسی ڈرامہ رچایا گیا جس کا مقصد بلدیاتی الیکشن اور متعدد ضمنی انتخابات جیتنا تھے۔ اگر یہ پیکیج کسانوں کیلئے ہوتا تو کسان کئی روز مال روڈ پر سراپا احتجاج نہ ہوتے۔ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ 2001 ء میں غربت کی شرح اگر 64 فیصد تھی تو وہ ن لیگ کی 1999 کی حکومت کا تحفہ تھا۔ غربت میں کمی 2002ء سے 2008 کے درمیان ہوئی جب سالانہ شرح نمو 8فیصد تھی۔ 2008 ء کے بعد شرح نمو کم ہوتے ہوتے 5فیصد سے بھی نیچے آگئی۔ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت روزانہ 5 ارب کے نوٹ چھاپ رہی ہے۔ ایک ہزار ارب کے ہر سال ملکی اور 2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لے رہی ہے۔ ملک 65.5 ارب ڈالر کا مقروض ہے، مجموعی قرضے جی ڈی پی کا 65 فیصد ہو چکے ہیں اگر قرضے لینے کی یہی رفتار رہی تو 2020 ء تک ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ سادگی اختیار کرنے اور بچت کرنے کے دعوے بھی دو روپے میں روٹی بیچنے والے دعوؤں کی طرح جھوٹے ثابت ہوئے۔ کشکول توڑنے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والوں نے اس کا سائز بڑا کر لیا۔ ملکی فیصلے آئی ایم ایف کررہا ہے، وزیر خزانہ غیر ملکی بینکوں کے فیصلوں پر صرف عملدرآمد کرواتے ہیں۔ انڈے، مرغی، دالوں، دودھ، دہی کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوا۔
رہنماؤں نے کہا کہ ترقی کرنے والے ممالک میں درآمدات، برآمدات سے 100فیصد زیادہ نہیں ہوتیں۔ حکومت عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی کم ہونے والی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی، تعلیم، صحت اور انصاف کی سہولتیں 2008ء سے مسلسل گر رہی ہیں، حکمرانوں نے خسارے میں چلنے والے اداروں کو منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر آج یہ ادارے سالانہ 600 ارب کا نقصان کررہے ہیں اور اب انہیں اونے پونے بیچنے کے منصوبے بن رہے ہیں، بقول حکمرانوں کے یہ رقم وفاق سمیت چاروں صوبوں کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود میٹرو بسوں اور اورنج ٹرین کے منصوبے سرکاری سرپرستی میں چلانے کے حوالے سے ضد کی جارہی ہے۔ یہ منصوبے بھی مستقبل میں خزانے پر بوجھ ثابت ہونگے۔


تبصرہ