وزیراعظم کے لندن دورے پر کتنے اخراجات آئے، تفصیل فراہم کی جائے: عوامی تحریک
عوامی تحریک کا سیکرٹری فنانس کو خط، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے
تحت معلومات تک رسائی بنیادی حق ہے
کھرب پتی حکمران 30سالہ اقتدار میں اپنے معیار کا ایک بھی ہسپتال نہ بنا سکے، رہنما
عوامی تحریک
لاہور
(یکم جون 2016) پاکستان عوامی تحریک نے رائٹ ٹور انفارمیشن ایکٹ 2012 ء کے تحت وفاقی
سیکرٹری فنانس کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پانامہ لیکس آنے کے بعد وزیراعظم
نے اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ علاج کے نام پر لندن کے دو دورے کیے ان دوروں کے
اخراجات کی تفصیل بمعہ میڈیکل بلز فراہم کی جائے۔ خط عوامی تحریک کے رہنما اشتیاق چودھری
ایڈووکیٹ نے لکھا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ پانامہ لیکس آنے کے بعد وزیراعظم
نے یکے بعد دیگرے لندن کے دو دورے کیے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان دوروں پر قومی خزانے
سے کتنے اخراجات ہوئے اور وزیراعظم کے ان دونوں دوروں کے اخراجات کو وزارت خزانہ اپنی
ویب سائٹ پر رکھے اور اس کی کاپی درخواست گزار کو بھی ارسال کی جائے۔ انہوں نے کہا
کہ رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے مطابق وزارت خزانہ یہ معلومات ویب سائٹ
پر مشتہر کرنے کی پابند ہے۔
دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ چونکہ ہم پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں اس لیے خلاف آئین اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ مفاد عامہ کی معلومات کے حصول کیلئے مجوزہ قانونی طریقہ کار اختیار کررہے ہیں۔ مذکورہ معلومات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری اور معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھرب پتی حکمران 30 سالہ اقتدار میں اپنے معیار کا ایک بھی ہسپتال نہ بنا سکے، یہ ان کی ملک اور عوام دوستی اور گڈگورننس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی اوپن ہارٹ سرجری کے حوالے سے بہت جلد اہم معلومات میڈیا پر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ وزیراعظم مکمل صحت یاب ہو کر جلد سے جلد پاکستان آئیں، پانامہ لیکس پر کمیشن بنے اور لوٹی گئی قومی دولت خزانے میں واپس آئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام قومی دولت کی لوٹ مار کا حساب چاہتے ہیں۔


تبصرہ