ڈاکٹر طاہرالقادری پر جھوٹے مقدمات درج ہیں، واپس لئے جائیں، ترجمان عوامی تحریک
17 جون 2014 کے دن شہریوں کو قتل کرنیوالے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
لاہور
(31 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہرالقادری
پر پولیس افسر پر تشدد کا جھوٹا مقدمہ درج ہوا جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
جبکہ ماڈل ٹاؤن میں 14شہریوں کو قتل کرنے والے پولیس افسران کو پوری قوم نے ٹی وی چینلز
کے ذریعے دیکھا مگر ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی ابھی تک کارروائی نہیں ہوئی بلکہ
انہیں انسانیت کا خون بہانے پر ترقیوں سے نوازا گیا، اسلام آباد میں بھی 30 اور 31
اگست کی رات پر امن سیاسی کارکنوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا، بد ترین تشدد اور
آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، تشدد کرنیوالے کسی درندے کو آج تک کٹہرے میں نہیں لایا گیا،
ترجمان نے کہاکہ ڈاکٹر طاہرالقادری پر درج مقدمات جھوٹے اور لغو ہیں، انہیں ختم کرنے
کا مطالبہ کرتے ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا کہ شریف برادران کے دور میں ملک میں دوہرا قانون نافذ ہے۔ ایک طرف بے گناہوں کی جانیں لینے والے افسروں کو پر کشش عہدے اور ترقیاں دی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والے افسروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں، ایس ایس پی نیکو کارا اور آفتاب چیمہ کی مثال سب کے سامنے ہے، انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مرکزی کردار ڈی آئی جی رانا عبد الجبار اور ڈاکٹر توقیر ابھی تک پر کشش تنخواہیں لے رہے ہیں، یہ وہ ننگ انسانیت افراد ہیں جنہوں نے 17 جون 2014 کے دن سفید داڑھی والے بزرگوں پر بھی تشدد کیا اور انسانیت کا مذاق اڑایا، انہوں نے کہاکہ 30 اور 31 اگست کی رات پر امن احتجاج کرنیوالے سیاسی کارکنوں پر بیہمانہ تشدد کرنیوالے پولیس افسران اور انکے سر پرست وزیر اعظم، وزیر داخلہ کو کٹہرے میں لایا جائے انکے خلاف بھی قتل اور اقدام قتل کی ایف آئی آرز درج ہیں۔


تبصرہ