پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ بار کی تجاویز کو ٹی او آرز میں شامل کرے، عوامی تحریک کا مطالبہ
کمیشن کی رپورٹ تک وزیر اعظم کو ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کااخلاقی
حق حاصل نہیں
کرپشن کے خاتمے کیلئے وکلاء کی جدوجہد ضرور ثمر بار ہو گی، خرم نواز گنڈا پور کا اجلاس
سے خطاب
عوامی تحریک کرپشن کے خاتمے کیلئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہے، خواجہ عامر فرید،
بشارت جسپال
لاہور
(22 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ
عوامی تحریک سپریم کورٹ بار کی طرف سے مرتب کئے جانیوالے ٹی او آرز اور اس ضمن میں
پاس کی جانیوالی قرارداد کی مکمل تائیدو حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ پارلیمانی
کمیٹی پانامہ لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ٹی او آرز کی تیاری میں ان تجاویز کو شامل
کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے
خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں خواجہ عامر فرید کوریجہ، بشارت جسپال، فیاض وڑائچ، بریگیڈئیر
(ر) محمد مشتاق، نور اللہ صدیقی، ساجد بھٹی اور قاضی فیض الاسلام نے شرکت کی۔ خرم نواز
گنڈا پور نے کہاکہ وزیر اعظم اور انکے اہل خانہ پر مالی کرپشن کے سنگین الزمات ہیں
لہذا جب تک کمیشن انکی بریت کا اعلان نہیں کرتا تب تک انہیں عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے
کیلئے قومی خزانے سے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور جلسہ جلسوس کا کوئی اخلاقی حق
حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے عہدیداروں اور ممبران کو
مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ کرپشن کے خاتمہ کے حوالے سے وکلاء کے مذکورہ نمائندہ فورمز
کا عملی کردار نیک شگون ہے، کرپشن کے خاتمے کیلئے وکلاء کی جدوجہد ہمیشہ کی طرح اس
بار بھی ثمر با ر ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 12رکنی مبینہ پارلیمانی
کمیٹی ٹی او آرز کی تیاری میں وکلاء کے ٹی او آرز اور تجاویز کو شامل کرے اور گزشتہ
روز وکلاء نے جو قرارداد پاس کی اس سے استفادہ کیا جائے، انہوں نے کہاکہ عوامی تحریک
نے کرپشن کے خلاف ہمیشہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی، پاکستان عوامی تحریک وہ واحد
سیاسی جماعت ہے جس نے کرپٹ حکمرانوں اور کرپٹ نظام کے خلاف بے مثال جانی و مالی قربانیاں
دیں، انہوں نے کہاکہ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کااول روز سے یہ موقف
رہا ہے کہ پانامہ لیکس کے انکشافات کی روشنی میں سب سے پہلے حکمران خاندان کا احتساب
کیاجائے اور اس کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعے با اختیار کمیشن بنایا
جائے اور اس کیلئے چیف جسٹس حاضر سروس ججز کا تقرر کریں، کمیشن کو اپنی سہولت کیلئے
ملکی و غیر ملکی ماہرین قانون اور فرانزک ایکسپرٹس کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار ہو
اور تمام ملکی ادارے کمیشن کے احکامات ماننے کے پابند ہوں اور کمیشن مقررہ مدت کے اندر
نہ صرف فیصلہ کرے بلکہ اسے سزا سنانے اور رپورٹ جاری کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے،
انہوں نے کہاکہ کرپشن ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ کرپشن
اور کرپٹ عناصر کا صفایا کر دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خاتمے، 19کروڑ عوام
کی بہتری اور ملکی بقا کیلئے عوامی تحریک کی قیادت اور اسکے کارکن ہمیشہ کی طرح اب
بھی ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوامی تحریک قاتلوں، غاصبوں،
قومی خزانے کے لٹیروں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرموں کا احتساب چاہتی ہے۔


تبصرہ