لوڈشیڈنگ سے ہسپتالوں میں آپریشن ملتوی، مریض تڑپ رہے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری
ہزاروں میگا واٹ کے بجلی منصوبے اور 6 ماہ میں لوڈ شیدنگ ختم کرنے
کے دعویدار کہاں ہیں؟
حکمرانوں کے ایوانوں میں 24 گھنٹے جنریٹر چل سکتے ہیں تو ہسپتالوں میں کیوں نہیں؟ گفتگو
پنجاب حکومت نے 9 سال اور وفاقی حکومت نے 3سال جھوٹے بیانات دینے میں گزار دئیے

لاہور (17 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ بجلی کے ہزاروں میگا واٹ منصوبوں کے ہر ماہ افتتاح کرنے والے بتائیں یہ منصوبے کہاں ہیں اور لوڈ شیڈنگ کم کیوں نہیں ہو ئی؟ ہسپتالوں میں آپریشن ملتوی اور مریض تڑپ رہے ہیں مگر حکمران قومی دولت اورنج ٹرین جیسے عیاشی کے منصوبوں پر لٹانے میں مصروف ہیں، وہ گذشتہ روز پاکستان عوامی تحریک لیبر ونگ کے مرکزی رہنماء اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس میں دن رات جنریٹر چل سکتے ہیں تو ہسپتالوں کو یہ سہولت کیوں نہیں مل سکتی، انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے جتنی دولت بجلی منصوبوں کی تشہیر پر خرچ کی اگر یہی پیسہ بجلی کے منصوبوں پر خرچ ہوتا تو عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل جاتا۔ انہوں نے کہاکہ دیہات میں سولہ سولہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، لوڈ شیڈنگ کے باعث مساجد میں وضو کیلئے پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ چھوٹی انڈسٹری تباہ اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، شدید گرمی کے باعث طلبہ و طالبات کیلئے علم کا حصول نا ممکن ہو چکا ہے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کیلئے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا نا ممکن ہو گیا ہے، توانائی کے بحران کے باعث سالانہ دس لاکھ مزدور بے روزگار ہو ر ہے ہیں مگرنندی پور جیسے جعلی منصوبے دینے والوں کو عوام کی مشکلات کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ اب تک بجلی بحران کو حل کرنے کے نام پر جو منصوبہ بھی سامنے آیا اس میں حکمرانوں کے مالی مفادات پوشیدہ نظر آئے، گردشی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں جو بھاری رقم خزانے سے ادا کی گئی اس پر بھی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں اور بجلی کے منصوبوں کی آڑ میں حکمران ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں، پنجاب حکومت نے 9 سال اور وفاقی حکومت نے قیمتی 3 سال جھوٹے بیانات دینے میں گزار دئیے، انہوں نے کہا کہ 6 ماہ میں بجلی بحران ختم کرنے کے دعویداروں نے 2018 کی تاریخ دے کر قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا، حکمرانوں کے توانائی کے بحران کے حل کا نہ کوئی ویژن ہے نہ پالیسی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے اگر یہ ممکن نہیں تو جنریٹر مہیا کئے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ عوام حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی سے پوچھیں کہ انتخابی مہم کے دوران 6 ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے کیوں نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ رمضان المبارک کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دیا جائے تا کہ روزہ دار شدید گرمی کے مہینے میں یکسوئی کے ساتھ عبادات کر سکیں۔


تبصرہ