پانامہ لیکس کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
حکمرانوں کی آمدن کے ذریعے بتانے کیلئے کچھ میاں مٹھو بے چین
بیٹھے ہیں، سربراہ عوامی تحریک
دھاندلی کی پیداوار پارلیمنٹ چوروں کا احتساب نہیں کر سکتی، سنیئر رہنماؤں سے گفتگو

لاہور (15 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کی چھان بین کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، آف شور کمپنیوں میں ملوث اراکین پارلیمنٹ کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنا احتساب اپنے ہاتھ میں ہی رکھ لیں، پانامہ لیکس اب پارلیمنٹ کا ایشو نہیں رہا یہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کو لکھا جانیوالاہوائی خط بھی اس مسئلے کو دبانے کی ایک کوشش تھی۔ حکمرانوں کی آمدن کے ذریعے بتانے کیلئے کچھ میاں مٹھو بے چین بیٹھے ہیں۔ وہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں بذریعہ ٹیلی فون پاکستان عوامی تحریک کے سنیئر رہنماؤں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ حکمرانوں کی اول و آخر کوشش ہو گی کہ کوئی با اختیار کمیشن نہ بننے پائے۔ مہمان حکومت جاتے جاتے بیورو کریسی سے غلط کام کروائے گی، بیورو کریٹ چوکنے رہیں، انہوں نے کہا کہ دھرنے میں گو نوا ز گو کا نعرہ لگایا یہ نعرہ اب اپنی عملی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے، دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کبھی بھی چوروں کا احتساب نہیں کر سکتی۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے خون سے آنے والے انقلاب کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ حکمرانوں کی لوٹ مار، نا انصافی اور ظلم و بربریت کے خلاف پر امن آئینی جدوجہد شروع کر رکھی ہے جس کی منزل جمہوری انقلاب ہے۔ 17 جون کو یوم شہدا منایا جائیگا، کارکن تیاریاں کریں۔ خون شہادت کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ خون کی ہولی کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کرینگے۔ ہماری جدوجہد آئینی، جمہوری اور قانون کے دائرے میں ہے۔ کروڑوں غریبوں کے حقوق کیلئے کی جانیوالی جدوجہد بہت جلد رنگ لائے گی۔ انقلاب کے بعد عوام مقتدر اور ظالم جیلوں میں ہونگے۔


تبصرہ