11 مئی کو سیاہ دن سمجھتے ہیں، غیر آئینی الیکشن کمیشن نے دھاندلی کروائی : عوامی تحریک
انتخابی قوانین اور آئینی شقوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ قوم
تباہی کی صورت میں بھگت رہی ہے
آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی اصلاحات کیلئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے تاریخی
مارچ کیا
سنٹرل کور کمیٹی کے اجلاس سے خرم نواز گنڈاپور، خواجہ عامر فرید، بشارت جسپال، فیاض
وڑائچ و دیگر کا خطاب
لوڈشیڈنگ، مہنگائی میں اضافہ کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور، شہدائے ماڈل ٹاؤن کیلئے
فاتحہ خوانی

لاہور (10 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ آج سے تین سال قبل 11 مئی 2013 کے دن غیر آئینی الیکشن کمیشن نے فراڈ الیکشن کروائے اور فراڈ الیکشن کروانے والے ممبرز آج بھی تنخواہوں کے نام پر حرام کھارہے ہیں اور فراڈ الیکشن کا نتیجہ آج پوری قوم اور ادارے بھگت رہے ہیں۔ 11 مئی کو سیاہ دن سمجھتے ہیں۔ آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ڈاکٹر طاہرالقادری نے تاریخ ساز لانگ مارچ کیا۔ آئین کے مطابق الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے تحریری معاہدے سے انحراف کرنے والے بھی آج رو رہے ہیں۔ سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ، بشارت جسپال، فیاض وڑائچ، احمد نواز انجم، جی ایم ملک، ساجد بھٹی، جواد حامد، ڈاکٹر تنویر اعظم سندھو، تنویر خان، مظہر علوی، عرفان یوسف، عائشہ مبشرودیگر نے خطاب کیا۔
سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں 17 جون کے یوم شہداء اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان آمد کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اجلاس میں لوڈشیڈنگ اور مہنگائی میں اضافہ کے حوالے سے مذمتی قرارداد پاس کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کو لوڈشیڈنگ فری مہینہ قرار دیا جائے۔ ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کی جائے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ وی آئی پی سکیورٹی ختم کر کے رمضان المبارک میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ 17 جنوری 2013 ء کے دن عظیم الشان لانگ مارچ کے موقع پر اس وقت کے حکمرانوں نے شفاف انتخابات اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پانچ نکاتی تحریری معاہدہ کیا تھا جس سے بعدازاں وہ منحرف ہو گئے اور پھر دھاندلی زدہ حکومت برسراقتدار آئی۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ تحریری معاہدے میں یہ شق شامل تھی کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق امیدواروں کی اہلیت جانچنے کیلئے ایک مہینے کا وقت مقرر ہو گا اور جب تک امیدواروں کے کاغذات کی سکروٹنی کا عمل مکمل نہیں ہو گا انہیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہو گی مگر اس سے انحراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62، 63 اور آرٹیکل 213 کی شق 3 سیکشن 77 تا 82 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے مطابق فری اینڈ فیئر الیکشن یقینی بنائے جائینگے اور آئینی الیکشن کمیشن دھاندلی کی ہر شکل کو ختم کرینگے اور شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے سپریم کورٹ کی ججمنٹ جو 8 جون 2012 ء کو جاری ہوئی اس کے مطابق الیکشن کا انعقاد ہو گامگر معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل نہ ہو سکا۔ آج جو تباہی ہورہی ہے اس کے ذمہ دار معاہدے سے انحراف کرنے والے اور غیر آئینی الیکشن کمیشن ہے۔


تبصرہ