اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کا نیا نوٹیفکیشن عوام سے دھوکہ ہے: عوامی تحریک پنجاب
روٹی 6 کی بجائے 8 روپے میں بک رہی ہے، دوکاندار ملی بھگت سے 40فیصد
زائد منافع لے رہے ہیں
مٹن، بیف، دالیں، دودھ، چاول 30 سے 40 روپے کلو مہنگے بک رہے ہیں، راجہ زاہد محموو
عوام 2 روپے میں روٹی فروخت نہ کرنے کی صورت میں نام بدلنے والے خادم کو ڈھونڈ رہے
ہیں
سرکاری قیمتوں کا اطلاق ان دوکانداروں پر ہوتا ہے جو بھتہ دینے سے انکار کر دیں
مرغی کے گوشت کی قیمت نوٹیفکیشن میں شامل کیوں نہیں کی گئی؟ حافظ غلام فرید، راجہ ندیم
و دیگر
لاہور
(4 مئی 2016) پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے اجلاس میں ضلعی حکومت لاہور کی طرف سے اشیائے
خورد و نوش کی نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کو غریب عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا گیا ہے اور
کہا گیا ہے کہ عوام دو روپے میں روٹی فروخت نہ کرنے کی صورت میں نام بدلنے والے خادم
کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ اجلاس کی صدارت عوامی تحریک پنجاب کے نائب صدر راجہ زاہد محمود نے
کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق روٹی کی قیمت 6 روپے مقرر کی گئی ہے
جبکہ روٹی گزشتہ 6 ماہ سے 8 روپے میں فروخت ہورہی ہے یہ وہی روٹی ہے جسے 2 روپے میں
بیچنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ روٹی دو روپے میں نہ بکی تو میں
اپنا نام تبدیل کرلوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مٹن کی فی کلو سرکاری قیمت 700 مقرر کی گئی
ہے جبکہ مٹن گزشتہ 5 ماہ سے کھلے عام 850 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ دودھ کی قیمت 70
روپے کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ دودھ 85 سے 95 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ بیف کی سرکاری
قیمت 325 مقرر کی گئی ہے جبکہ اس کی بازاری قیمت گزشتہ 5 ماہ سے 400 روپے کلو ہے۔ اسی
طرح چاول نیا باسمتی 90 سے 120 کلو بک رہا ہے جبکہ سرکاری قیمت 68 روپے کلو بتائی گئی
ہے۔ پرانا باسمتی 130 سے 150 کلو بک رہا ہے جبکہ سرکاری نوٹیفکیشن میں اس کی قیمت 82
روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرغی کے گوشت کے قیمت نوٹیفکیشن میں شامل نہیں
کی گئی کیونکہ مرغی کے گوشت کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر سرکاری ایوانوں میں بیٹھے ہوئے
حکمران خاندان کے چشم و چراغ مقرر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور بازاری قیمتوں
میں 30 سے 40 فیصد فرق ہے۔ سرکاری قیمتوں کا اطلاق صرف ان دکانداروں پر ہوتا ہے جوبھتہ
دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ
لاہور کے کسی بازار سے اپنی ہی اعلان کردہ قیمتوں پر کوئی ایک ایٹم خرید کر دکھائیں
تو انہیں اپنی حکومت اور اپنے ماتحت اداروں کی اصلیت کا پتہ چل جائے گا۔ اجلاس میں ایک
قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ شہباز حکومت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کے حوالے
سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق فروخت یقینی بنائے۔ اجلاس میں حافظ غلام فرید،
انجینئر ثناء اللہ، حاجی اسحاق خان، الطاف رندھاوا نے شرکت کی۔


تبصرہ