سانحہ ماڈل ٹاؤن : 2 مزید گواہوں کا انسداد دہشتگردی عدالت میں بیان قلمبند
ایس پی سلیمان نے اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر کے حکیم صفدر
کو شہید کیا، گواہان
ایس پی سلیمان کے ہمراہ کانسٹیبل عرفان عادل، احسن، طارق اور شکیل بھی فائرنگ کرتے
رہے
استغاثہ کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی، پولیس کے چالان پر کارروائی 12 مئی کو
ہو گی
لاہور
(2 مئی 2016) وزیراعظم نوز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، وفاقی و صوبائی
وزراء کے خلاف 10 افراد کے قتل کے استغاثہ کیس میں گزشتہ روز عوامی تحریک کے 2 مزید
چشم دید اور سانحہ مادل ٹاؤن کے زخمی گواہوں محمد منصور اور طارق محمود عاجز نے
انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم کے روبرو اپنے بیانات قلمبند
کروائے۔ گواہ طارق محمود عاجز نے اپنے بیان میں کہا کہ 17 جون 2014 ء کے دن میں
سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے قریب موجود تھا کہ وہاں
پر موجود ایس پی سکیورٹی سلیمان علی نے اپنی سرکاری گن ایس ایم جی سے اندھا دھند
فائرنگ کی جس کے فائر موقع پر موجود حکیم صفدر کولگے اور وہ موقع پر جاں بحق ہو
گیا۔ انہوں نے بتایا پولیس پرامن کارکنوں پر لاٹھی چارج آنسو گیس کی شیلنگ بھی کرتی
رہی۔ دوسرے چشم دید گواہ محمد منصور نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ ایس پی
سلیمان کے ہمراہ کانسٹیبلان عرفان، محمد عادل، غلام عباس، احسن عابد، طیب، طارق،
شکیل ملک اور محمد انور نے کارکنوں پر فائرنگ کی جس سے متعدد کارکن زخمی ہوئے، ایک
گولی میری ٹانگ پر لگی اور میں زخمی ہو گیا۔ مزید سماعت5مئی تک ملتوی کر دی گئی۔
دریں اثناء پولیس کی طرف سے دائر کیے گئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے چالان پر سماعت 12
مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ بعدازاں عدالت کے احاطہ میں عوامی تحریک کے وکلاء نے
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے ٹھوس شہادتیں پیش کی جارہی
ہیں۔ اب تک موقع پر موجود اور زخمی 20 گواہان کے بیانات قلمبند کرواچکے ہیں۔ مزید
گواہان بھی پیش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹھوس شہادتوں کے باعث ماڈل ٹاؤن میں 17
جون 2014 ء کے دن ماڈل ٹاؤن میں معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے قاتل اور ان کے
سہولت کار سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔


تبصرہ