سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس، ڈاکٹر طاہرالقادری کے ہمسائے میاں ممتاز کا انسداد دہشتگردی کی عدالت میں بیان
ڈی آئی جی عبدالجبار کے حکم پر گن مینوں نے فائرنگ کر کے تنزیلہ
اور شازیہ کو شہید کیا
ڈی آئی جی نے کہا تین تک گنتی گنوں گا خواتین پیچھے نہ ہٹیں تو گولیوں سے بھون دیں،
پھر ایسا ہی ہوا
کارکن خواتین سربراہ عوامی تحریک کی رہائش گاہ کے مرکزی گیٹ پر ہاتھوں کی زنجیر بنا
کر کھڑی تھیں
بابر کانسٹیبل دونوں ہاتھوں سے اندھا دھند فائرنگ کرتا رہا، سماعت 22 اپریل تک ملتوی
لاہور
(18 اپریل 2016) سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں گزشتہ روز سربراہ عوامی
تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ہمسایے میاں ممتاز نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے
کہا کہ عوامی تحریک کی خواتین آمنہ لطیف، عائشہ کیانی، تنزیلہ امجد، رمشا آمنہ بتول
اور شازیہ مرتضیٰ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے مرکزی گیٹ
پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کھڑی تھیں۔ ڈی آئی جی رانا عبدالجبار نے بلند آواز میں کہا
کہ میں تین تک گنتی گنوں گا اگر آپ دروازے سے نہ ہٹیں تو گولیوں سے بھون دوں گا اور
پھر ایسا ہی ہوا۔ ڈی آئی جی کی تین تک گنتی مکمل ہونے کے بعد گن مین عابد حسین نے فائرنگ
شروع کر دی جس کاایک فائر تنزیلہ امجد کے جبڑے پر لگا اور وہ موقع پر شہید ہو گئیں
پھر اس کے بعد ایس پی طارق عزیز نے ایلیٹ فورس کے نثار کو فائرنگ کا حکم دیا جس کی
فائرنگ سے شازیہ مرتضیٰ شدید زخمی ہو کر گر پڑیں اس کی گردن پر گولیاں لگیں۔ میاں ممتاز
نے بتایا کہ میں فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد گھر کی طرف لوٹا تو وہاں بابر کانسٹیبل
دونوں ہاتھوں میں ریوالر تھامے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا اور خوف
و ہراس پھیلارہا تھا۔ میاں ممتاز نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ میرا گھر
ڈاکٹر طاہرالقادری کی ماڈل ٹاؤن والی رہائش گاہ کے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ رات ایک
بجے فائرنگ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کا شور سن کر گھر سے باہر نکلا تو پولیس
کی بھاری نفری بلڈوزرز اور کرینوں کے ساتھ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری کی
رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہی تھی اور پورے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ کارکن اس محاصرے
کے خلاف پرامن احتجاج کررہے تھے یہ ساری بربریت 16 جون 2014 ء کی رات ایک بجے سے شروع
ہو کر دن 12 بجے تک جاری رہی۔ مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی گئی انسداد دہشتگردی
کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے استغاثہ کے وکلاء سے کہا کہ آئندہ سماعت پر پولیس
کی ایف آئی آر نمبری 510 کے تحت پیش ہونے والے چالان پر بھی بحث ہو گی آیا استغاثہ
کے دائر ہونے کے بعد اس کی کیا قانونی حیثیت ہے۔ عوامی تحریک کی طرف سے سینئر وکیل،
رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، غضنفر علی ایڈووکیٹ، چودھری
امتیاز ایڈووکیٹ، جواد حامد و دیگر وکلاء موجود تھے۔


تبصرہ