سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس، ڈاکٹر طاہرالقادری کے ہمسائے 18 اپریل کو اپنا بیان قلمبند کروائیں گے
پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالی 2 خواتین کے چشم دید گواہ
بھی اپنا بیان دیں گے
عوامی تحریک لاہور کی طرف سے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی
ہو گا
لاہور
(17 اپریل 2016) سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں 18 اپریل کو عوامی تحریک
کی 2 جاں بحق کارکن خواتین شازیہ مرتضیٰ اور تنزیلہ امجد کے چشم دید گواہ انسداد دہشت
گردی کی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری
کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کے ہمسائے جنہوں نے 17جون 2014 کی پولیس کارروائی کا سارا منظر
اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بھی اپنا بیان قلمبند کروانے عدالت آئیں گے۔ پاکستان عوامی
تحریک لاہور کی طرف سے آج اہم گواہوں کے پیش ہونے کے پیش نظر انسداد دہشت گردی کی عدالت
کے باہر انصاف کیلئے پر امن مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ پاکستان عوامی تحریک وکلاء رائے
بشیر احمد ایڈووکیٹ، نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس
کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج 18 اپریل کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو اہم گواہ اپنا
بیان قلمبند کروائیں گے۔ ان میں ایک گواہ سربراہ عوامی تحریک کا ہمسایہ ہے۔ انہوں نے
کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اتنے ثبوت پیش کر دیے ہیں جو سانحہ کے ذمہ داروں کو
سزائیں دلوانے کیلئے کافی ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا
پور نے کہاکہ آج کارکن انصاف کیلئے بھر پور مظاہرہ کرینگے اور ہمیں امید ہے کہ انسداد
دہشتگردی کی عدالت کے نئے جج حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ٹرائل کو آگے بڑھائیں گے
کیونکہ یہ بے گناہ شہریوں کی موت کا اہم ترین کیس ہے۔


تبصرہ