جمہوریت نہیں ’’شرفاء‘‘ کی سیاست اور دولت خطرے میں ہے: میجر (ر) محمد سعید
کیا قائداعظم نے پاکستان حسن نواز، حسین نواز، مریم، حمزہ، سلمان
کیلئے بنایا تھا؟
’’شہزادوں ‘‘کو آف شور کمپنیاں بنانے، انڈے مرغی کے نرخ مقرر کرنیکے سوا کیا ہنر آتا
ہے؟
عوامی تحریک کے چیف آرگنائزر کی زیر صدارت اجلاس، ونگز کے صدور کی شرکت، تنظیم سازی
پر غور
لاہور
(14 اپریل 2016) پاکستان عوامی تحریک کے چیف آرگنائزر میجر(ر) محمد سعید نے مرکزی سیکرٹریٹ
میں منعقدہ تنظیمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت نہیں شرفاء کی سیاست اورلوٹ
مار کی دولت خطرے میں ہے۔ کیا قائداعظم نے پاکستان حسن نواز، حسین نواز، مریم، حمزہ،
سلمان کیلئے بنایا تھا؟ شریف برادران قوم کو بتائیں ان کے ’’شہزادوں ‘‘کی تعلیم، سیاست،
کاروباراور خدمت خلق کے شعبوں میں کیا خدمات اور قربانیاں ہیں اور انہیں آف شور کمپنیاں
بنانے، دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں محلات خریدنے، انڈے، مرغی کے ریٹ نکالنے کے سوا
کیا ہنر آتا ہے؟۔ اجلاس میں وکلاء ونگ کے رہنماؤں اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ، مرکزی صدر
یوتھ ونگ مظہر علوی، مرکزی صدر ایم ایس ایم عرفان یوسف و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
میجر(ر) محمد سعید نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی پریس کانفرنس میں ثبوتوں کے ساتھ شریفوں کی کرپشن قوم کے سامنے رکھ دی۔ اب بھی اگر پاکستان کے عوام نہ اٹھے اور ظالم نظام اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات کیلئے جدوجہد نہ کی تو پھر اللہ کی مدد نہیں لاٹھی حرکت میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت نواز لیگ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور گلی محلہ کی سطح پر شریف برادران کے نعرے لگانے والے کارکنوں سے میرا سوال ہے کہ کیا انہیں تعلیم، روزگار، عزت اور وہ تحفظ ملاہے جو حسن، حسین نواز، مریم، حمزہ اور سلمان کو میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکمران جماعت کے کارکنوں کا یہ قومی فریضہ نہیں ہے کہ وہ پانامہ لیکس کی روشنی میں سامنے آنے والے انکشافات پر اپنی قیادت سے سوال کریں اور ان سے پوچھیں کہ جس ملک کے عوام نے 30 سال تک اس خاندان کو سر پر بٹھائے رکھا اس کی دولت بیرون ملک کیسے گئی اور جو سرمایہ کاری لندن میں ہوئی وہ پاکستان میں کیوں نہیں کی گئی اور ن لیگ کے کارکن اپنی قیادت سے یہ بھی پوچھیں کہ ہم نے آپ کو قومی خزانے کا امین بنایا تھا تو پھر خیانت کیوں ہوئی؟انہوں نے کہا کہ لوٹا گیا پیسہ نہ عوامی تحریک کا ہے نہ تحریک انصاف کا نہ پیپلز پارٹی کا اور نہ جماعت اسلامی کا یہ پیسہ پاکستان کے 19 کروڑ عوام کا ہے اور عوام حساب مانگنے کا حق رکھتے ہیں۔


تبصرہ