روزانہ 133 اور سالانہ 50 ہزار ملین ڈالر کرپشن ہورہی ہے : عوامی تحریک
ڈاکٹر طاہرالقادری نے دھرنے میں کرپشن سے متعلق جو حقائق بتائے
آج نیب انکی تصدیق کررہا ہے، خرم نوازگنڈاپور
نیب کے پر کاٹنے کیلئے ’’پر‘‘تولنے والوں کے گلے کاٹنے کیلئے قانون سازی ناگزیر ہو
گئی، میجر (ر) محمد سعید
لاہور
(2 اپریل 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ
معاشی دہشتگردی کے خاتمے تک مسلح دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔ اسلام آباد دھرنے کے دوران
اربوں ڈالر سالانہ کرپشن سے متعلق ڈاکٹر طاہرالقادری نے جو انکشاف کیے آج نیب انکی
تصدیق کررہا ہے۔ نیب کی طرف سے اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 133 ملین
اورسالانہ لگ بھگ 50 ہزار ملین ڈالر کرپشن ہورہی ہے۔ ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ، منشیات
اور میگا منصوبوں سے حاصل ہونے والی کمیشن اور کک بیکس کے علاوہ ہر سال غیر ملکی قرضوں
کا 40 فیصد کرپٹ حکمرانوں اور ان کے حواری بیوروکریٹس کی جیبوں میں جارہا ہے۔ خرم نواز
گنڈاپور پاکستان عوامی تحریک کی دستور پر قائم نظر ثانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے
تھے۔ اجلاس میں چیف آرگنائزر میجر (ر) محمد سعید، اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ، ساجد بھٹی
اور نوراللہ صدیقی نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا جب تک معاشی دہشتگردوں کا صفایا نہیں ہو گا نہ خودکش دھماکے رکیں گے اور نہ ہی پاکستان معاشی اعتبار سے کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پھر کہہ رہا ہوں کہ اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اورلوٹ مار کی دولت دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کو مل رہی ہے جو اس پیسے کوپاکستان اور افواج پاکستان کو کمزو رکرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ معاشی دہشتگردی قومی سلامتی کے خلاف براہ راست خطرہ بن چکی ہے۔ افواج پاکستان اوررینجرز آپریشن ضرب عضب کی مکمل کامیابی کیلئے معاشی دہشتگردوں کے خاتمہ کو اپنا کور ٹارگٹ بنائیں ورنہ مسلح دہشتگردی کا وائرس ڈینگی کے وائرس کی طرح کبھی ختم نہیں ہوگا۔
پاکستان عوامی تحریک کے چیف آرگنائزر میجر(ر) محمد سعید نے کہا کہ احتساب کے اداروں کے پر کاٹنے والوں کے گلے کاٹنے کیلئے قانون سازی ناگزیر ہو گئی۔ کرپشن کی سزا موت ہونی چاہیے ورنہ پاکستان کے 60 فیصد سے زائد غریب خاندان دو وقت کی روٹی کیلئے غلامی کی زندگی بسر کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر الاٹ کی جانیوالی 4 ٹریلین روپے لاگت کی قیمتی زمین کی واگزاری نیب کا بہت بڑا کارنامہ ہے تاہم غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث عناصر کون تھے؟ اور انہیں کیا سزا ملی قوم کوان تفصیلات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کے 150 میگا سکینڈلز میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نیب کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ کرپٹ مگر مچھوں کا بلاتفریق بے رحم احتساب ہونا چاہیے۔ کون کیسے ’’کھکھ پتی‘‘ سے کھرب پتی بنا یہ سب قوم کے سامنے ہے، اسے قانون کی عدالت کے ریکارڈ پربھی آنا چاہیے۔


تبصرہ