آپریشن کے 36 گھنٹے بعد وضاحتیں ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ والی ہیں: عوامی تحریک
آپریشن ضرب عضب کی طرح پنجاب میں آپریشن کا آغاز بھی قومی سلامتی
کے اداروں نے کیا
’’دہشتگردوں کو نہیں چھوڑیں گے‘‘پہلی بار وزیر قانون نے پوراسچ بولا، یہ ان کے بغیر
نہیں رہ سکتے
خرم نواز گنڈاپور، میجر(ر) محمد سعید، خواجہ عامر فرید کوریجہ اور جنوبی پنجاب کے صدر
فیاض وڑائچ کا اجلاس میں خطاب

لاہور (29 مارچ 2016) پاکستان عوامی تحریک کے مشاورتی کونسل کے اجلاس میں پنجاب کے حکمرانوں کی طرف سے آپریشن کے 36 گھنٹے بعد کی جانیوالی پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 36 گھنٹے بعد وضاحتیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں۔ ’’دہشتگردوں کو نہیں چھوڑیں گے‘‘یہ کہہ کر پہلی بار وزیر قانون پنجاب نے پورا سچ بولا، یہ واقعتادہشتگردوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی ان کا دہشتگردوں کے بغیر سیاسی گزارہ ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک سال سے کہہ رہے تھے کہ پنجاب میں آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ اس بات پر عمل ہو جاتا تو سینکڑوں جانیں بچ جاتیں۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، چیف آرگنائزر میجر(ر) محمدسعید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ و دیگر شریک تھے۔ خرم نواز گنڈاپور نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے فوج، رینجرز اور ایجنسیوں نے ’’دہشتگردوں کے خادم اعلیٰ ‘‘وزیر قانون کو لاعلم رکھ کر آپریشن کاآغاز کیا ورنہ اہم ٹارگٹ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جاتے۔ جب سے آپریشن کا آغاز ہوا ہے پنجاب کے حکمرانوں کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں دہشتگردوں کے مکمل صفایا تک وزیر قانون پنجاب کو آپریشن سے متعلق کسی میٹنگ میں نہ بیٹھنے دیا جائے ورنہ اہم معلومات دہشتگردوں تک پہنچتی رہیں گی۔ وزیر قانون پنجاب کے کالعدم تنظیموں سے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے چیف آرگنائزر میجر(ر) محمد سعید نے کہا ہے کہ پاک فوج کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گلشن پارک دہشتگردی پنجاب کے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کانتیجہ ہے۔ ساری عمر لاہور کے عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والے ان کے جان و مال کو محفوظ نہ بنا سکے۔ تخت لاہور کے حکمرانوں میں شرم ہوتی تو اب تک مستعفی ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی طرح پنجاب میں آپریشن کا آغاز بھی قومی سلامتی کے اداروں نے کیا جو خوش آئند ہے۔ پنجاب کا آپریشن سندھ آپریشن کی طرح محدود اور متنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شخص کا وزیر قانون ہونا المیہ ہے، جن عناصر کا کڑا محاسبہ ہونا چاہیے وہ اہم عہدوں پر قابض ہیں۔ پنجاب کے حکمرانوں نے صرف قومی ایکشن پلان کو ناکام بنانے پر توانائیاں صرف کیں، اب وقت آگیا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کرکیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کا ہر کارکن پنجاب میں شروع ہونے والے فوج کے آپریشن کلین اپ کے ساتھ ہے اور پاکستان اور پنجاب کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سے پاک کرنے کیلئے ہماری جانیں، مال سب حاضر ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری ہی وہ واحد قومی اور مسلم عالمی رہنما ہیں جنہوں نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عالمگیر جدوجہد کا آغاز کیا اور فکری سطح پر دہشتگرد گروپوں اور ان کے سرپرستوں کو تنہا اور بے نقاب کیا۔ عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے مزدوروں، کسانوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا۔ غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے یہاں پر دہشتگردوں گروپوں نے نوجوانوں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جنوبی پنجاب میں 5سے 16 سال کی عمر کے لاکھوں بچے غربت اور سکول کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ترقی کے سماجی دھارے سے باہر ہیں اوریہی وہ بچے انتہا پسند گروپو ں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں۔ جن حکمرانوں کے پاس بچوں کو تعلیم دینے کیلئے فنڈز نہیں ہیں۔ انہیں ایونوں کی بجائے زندانوں میں ہونا چاہیے۔ عوام ایک عرصہ سے فوج کے آپریشن کا انتظارکررہے تھے۔ فوج کے آپریشن کی اطلاعات پر جنوبی پنجاب کے عوام کے چہروں پر اطمینان ہے۔ ہم فوج اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔


تبصرہ