نیب 90 ملین کے موبائل خریداری سکینڈل کی انکوائری کرے، عوامی تحریک کا چیئرمین کوخط
لیسکو نے بجلی کے بلوں پر ریڈنگ پرنٹ کرنے کیلئے موبائل خریدے،
ایک بھی پرنٹڈ بل نہیں آیا
اربوں روپے کے لیپ ٹاپ، سولر لیمپ اور کمپیوٹرز کی خریداری میں بھی گھپلے ہوئے
خط عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل نے لکھا، نیب آزاد ہے تو وزیروں سے جواب طلب کرے
لاہور
(24 مارچ 2016) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے چیئرمین
نیب قمرالزمان چودھری کے نام خط لکھا ہے کہ لیسکو نے حال ہی میں میٹر ریڈروں کیلئے
90 ملین کی خطیر رقم سے موبائل خریدے جس کا مقصد میٹر وں کی تصاویر بنانا اور اصل ریڈنگ
کی تصویر بجلی کے بلوں پر پرنٹ کرنا تھا مگر 9 ماہ گزر جانے کے بعد بھی ایک بھی پرنٹڈ
بل نہیں آیااور خریدے گئے موبائل ناقص پائے گئے ہیں۔ انہوں نے خط میں مطالبہ کیا کہ
قومی خزانے کو 90 ملین روپے کا نقصان پہنچا ہے، نیب اگر آزاد اور خودمختار ہے تو وہ
اس کی انکوائری کرے اور واپڈا کے وزیروں اور ذمہ داروں سے جواب طلب کرے۔ انہوں نے کہا
کہ ایک طرف واپڈا صارفین سے 35فیصد تک زائد بل وصول کررہا ہے اور اوور بلنگ کے باعث
غریب خود کشیاں کررہے ہیں اور دوسری طرف قومی دولت منظور نظر کمپنیوں اور فرنٹ مینوں
کے ذریعے مختلف ہتھکنڈوں سے لوٹی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب سے مطالبہ
کرتے ہیں کہ وہ میٹر ریڈروں کیلئے خریدے جانے والے اس موبائل سکینڈل کی تحقیقات کرے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں 6 ارب کے لیپ ٹاپ، 4 ارب کے سولر لیمپ اور 5
ارب کے کمپیوٹر خریدے گئے، یہ تمام خریداریاں مارکیٹ سے زائد نرخوں پر ہوئیں اور یہ
اشیاء آج کم و بیش سکریپ میں تبدیل ہو چکی ہیں نہ کسی سکول میں کمپیوٹر لیب سلامت ہے
اور نہ ہی سولر لیمپ کہیں نظر آتے ہیں، لیپ ٹاپ بھی آدھی قیمت پر فروخت ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے ٹیکنیکل کرپشن متعارف کروائی ہے یہ کسی سودے میں خود
سامنے نہیں آتے، خریدار کوئی اور ہوتا ہے، کمپنیاں کوئی اور ہوتی ہیں اور انوائسنگ
کہیں اور سے ہوتی ہے، اسی لیے وزیراعلیٰ پنجاب سینے پر ہاتھ مار کرکہتے ہیں کہ ایک
پائی بھی کرپشن کی ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی محکمہ،
کوئی منصوبہ اٹھا کر دیکھ لیں اس میں کرپشن کے پہاڑ نظر آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ
حکمرانوں کا لوٹ مار کا طریقہ بڑا منفرد ہے، 100روپے والے منصوبے کا2سو روپے تخمینہ
لاگت مقرر کر کے خزانے کو لوٹا جارہا ہے، میٹرو بس اور اورنج ٹرین کا تخمینہ لاگت دنیا
کا مہنگا ترین ہے، غیر جانبدار اور شفاف انکوائری میں بڑے بڑے شرفاء کے چہروں سے نقاب
اٹھ جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ان تمام خریداریوں کی انکوائری کرے اور اصل حقیقت
جاننے کیلئے الیکٹرانکس، آئی ٹی ایکسپرٹس اور مارکیٹ ذرائع سے مدد لے۔


تبصرہ