دہشتگردی کی عدالت سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی یکطرفہ کارروائی کے بعد یکطرفہ فیصلہ سنانے پر بضد ہے، وکلاء عوامی تحریک
لاہور
(02 مارچ 2016) دہشتگردی کی عدالت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس کو یکطرفہ طور پر چلا رہی
ہے، وکلاء کی موجودگی کے بغیر پولیس کی جھوٹی گوائیاں قلم بند کی جا رہی ہیں، دہشتگردی
کی عدالت کے جج اپریل میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور انعام حاصل کرنے کیلئے مارچ میں ملکی
تاریخی کے اس اہم ترین کیس کا یکطرفہ فیصلہ کرنے پر بضد ہیں، ان خیالات کا اظہار عوامی
تحریک کی وکلاء ٹیم کے سربراہ اور سنیئر وکیل رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ یہاں نے گفتگو
کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرزا نوید بیگ ایڈووکیٹ، نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ، محمد
ناصر ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ عوامی تحریک کے وکلاء نے کہاکہ فیئر ٹرائل آئینی تقاضا
ہے، بد قسمتی ہے کہ عدالت کے اندر اسکی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ پولیس ثبوتوں کے نام
پر جو ’’چھان بورا، ردی‘‘ پیش کرتی ہے اسے عوامی تحریک کے وکلاء کی عدم موجودگی میں
گواہی کا حصہ بنا دیا جا تا ہے، رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے کہاکہ درجنوں پرائیویٹ
چینلز نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی کارروائی کو براہ راست کور کیا مگر کسی ایک چینل میں بھی
ایسی فوٹیج موجود نہیں ہے جس میں عوامی تحریک کے کارکنوں کو اسلحہ لہراتے یا فائرنگ
کرتے دکھایا گیا ہو، مگر حکمرانوں کے ایما پر پولیس نے جو جھوٹی ایف آئی آر درج کی
اب اسکی روشنی میں جھوٹی گواہیاں پیش کی جا رہی ہیں۔


تبصرہ