امتیازی سلوک پاکستان کے دکھتے مسائل میں سے ایک ہے: عوامی تحریک
امیر، غریب کیلئے الگ الگ قانونی سلوک سے انتہا پسندی جنم لیتی
ہے، امتیازی سلوک کے عالمی دن کے موقع پر گفتگو
ماڈل ٹاؤن میں 14 شہریوں کو قتل کرنے والے دندناتے پھررہے ہیں :خرم نواز گنڈاپور
تقریب سے احمد نواز انجم، ساجد بھٹی، نوراللہ صدیقی، عائشہ مبشر و دیگر کا خطاب
لاہور
(یکم مارچ 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے امتیازی سلوک
کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
قوانین کے امتیازی نفاذ کے باعث آج ہم حالت جنگ میں ہیں، امیر غریب کیلئے الگ الگ قانونی
سلوک اور سہولتوں کی فراہمی کے باعث انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں
خون بہانے والے حکمرانوں کو کٹہرے میں لانا تودور کی بات ان کے ذکر سے بھی منصفوں کو
ٹھنڈے پسینے آتے ہیں، جس معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا عمل امتیازی رویے کا شکار ہو
وہاں اللہ کی برکتوں کا نزول کیسے ہو سکتا ہے؟تقریب میں سینئر رہنماؤں احمد نواز انجم،
ساجد بھٹی، نوراللہ صدیقی، عائشہ مبشر، جواد حامد، راجہ ندیم و دیگر نے شرکت کی، خرم
نواز گنڈاپور نے کہا کہ ’’امتیازی سلوک‘‘ پاکستان کے دکھتے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ
ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں 14 شہریوں کو قتل کرنے والے دندناتے پھررہے ہیں۔ یہاں اسمبلیوں میں
بھی مرد پارلیمنٹرین اور خاتون پارلیمنٹرین سے الگ الگ برتاؤ ہوتا ہے، مردوں کو تو
ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں مگر خواتین اراکین اسمبلی محروم رہتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک
میں طاقتور کے کیلئے الگ اور کمزور کیلئے الگ قانونی برتاؤ ہے۔ امیر خاندانوں کیلئے
تعلیم، صحت کی سہولتیں مختلف اور غریب خاندانوں کیلئے مختلف ہیں یہاں تک کہ امراء اور
غربا کیلئے پینے کے پانی سے لیکر خوراک کی کوالٹی جدا جدا ہے، ایک طبقہ کیلئے پاکستان
جنت اور ایک طبقہ کیلئے جہنم ہے، انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے پہلے 40 آرٹیکل شہریوں
کے ساتھ مساوی سلوک کرنے، انہیں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی سے متعلق ہیں مگر حکمران
آئین کے ان حصوں پر عمل کرتے ہیں جن سے ان کے سیاسی کردار کو استحکام ملتا ہے، یکساں
اور معیاری تعلیم، صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور بلدیاتی اداروں کو قانون کے مطابق
اختیارات اور وسائل دینا آئینی تقاضا ہے مگر حکمران اسے خاطر میں نہیں لاتے۔ زندگی
کا ہر شعبہ ان کی صوابدید اور امتیازی رویوں کی زد پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیغمبر
اسلام ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر جوانسانی حقوق کا چارٹر دیا اس کی بنیاد برابری اور
ہر طرح کے امتیاز کے خاتمہ پر تھی۔


تبصرہ