عوامی تحریک یوتھ ونگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیراہتمام سانحہ چارسدہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
مظاہرے میں عمرریاض عباسی، راضیہ نوید، ابرار رضا، علی رضا، قمر گردیزی ودیگر کی شرکت

اسلام آباد (23 جنوری 2016ء) پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ اسلام آبادکے زیراہتمام سانحہ چارسدہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ سے مرکزی رہنماؤں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عوامی تحریک عمر ریاض عباسی، راضیہ نوید، غلام علی خان، علی رضا، قمر گردیزی، عمر قریشی اور رانا ساجد نے خطاب کیا۔
احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے عمرریاض عباسی نے کہاکہ سانحہ اے پی ایس کے بعد سانحہ چارسدہ باچا خان یونیورسٹی حکمرانوں کی نااہلی کانتیجہ ہے، دہشتگردی بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ختم ہو گی، سفاک دہشتگرد پاکستان کے مستقبل کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے علاوہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ضرور ختم ہوئیں مگر سہولت کار دندناتے پھررہے ہیں۔ حکمران میگا منصوبوں کی بجائے اپنی توجہ کا مرکز کالجز اور یونیورسٹیز کے تحفظ کو بنائیں۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قمر گردیزی، رانا ساجد اور ایم ایس ایم کے نعمان کریم نے کہا کہ ہم عوامی تحریک یوتھ ونگ، تحریک منہاج القرآن اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کی طرف سے باچا خان یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات، پروفیسرز اور لیکچررز سے مکمل اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے عزم، ہمت اور حوصلے کو داد دیتے ہیں، علم کے دشمن دہشتگردوں کا اصل ایجنڈا اور ان کے چہرے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں، آخر کار دہشتگرد، ان کے ہمدرد اور سہولت کار اس دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہونگے اور آخرت کے دن بھی یہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے والے عناصر خواہ ان کا پاکستان سے تعلق ہے یا پاکستان سے باہر جو بھی انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہوئے ان کا انجام بھی دہشتگردوں سے بدتر ہوگا۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے دہشتگرد مردہ باد، پاک فوج زندہ باد اور گو نواز گو کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
احتجاجی مظاہرے میں ابرار رضاایڈووکیٹ، فاروق بٹ، حمزہ بٹ، شبیراحمد، صدیق بٹ، مصطفی خان، غلام علی خان، انصار ملک، عثمان امین، غلام احمد، محمد سلیم، گلفراز دلزک، مبشر رندھاوا، عاطف محمود و دیگر کاکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


تبصرہ