عوامی تحریک جموں کشمیر آنے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی: سردار منصور خان

اسلام آباد (06 جنوری 2015ء) مرکزی صدر جموں کشمیر عوامی تحریک سردارمنصورخان نے کہا ہے کہ جموں کشمیر عوامی تحریک آنے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی جس کے لئے آج سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ آئندہ آنے والے والے دو مہینے میں ڈیڑھ لاکھ افراد کو ممبر سازی کے ذریعے عوامی تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ بہت جلد عوامی تحریک آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ کو ہمارے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں نے بے حس کیمپ بناکے رکھ دیا ہے، آزاد کشمیر کو حقیقی بیس کیمپ بنانے کے لئے کرپشن اقر باپروری اور برادری ازم کے خلاف انقلابی اور ہنگامی بنیادوں پر جدوجہد کا آغازکرنا ہوگا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر منشور کمیٹی کا بھی باقاعدہ اعلان کیا گیا جس کے سربراہ سردار اعجازسدوزئی اور ممبران میں صاحبزادہ ریاض عباسی، سردار نجم الثاقب، خواجہ فیصل اور غلام علی خان شامل ہیں۔ سردارمنصورخان نے نومنتخب عہدیداران کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صدر جموں کشمیر عوامی تحریک سردار منصورخان، سینئر نائب صدر سردار اعجاز سدوئی، نائب صدر صاحبزادہ ریاض احمد عباسی، سیکرٹری جنرل اے ڈی چوہدری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جی ایم نورانی، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل چوہدری رفیق قادری، سیکرٹری اطلاعات افتخار حسین فاروقی، چیف آرگنائزر، سیدابرارشاہ، چیف کوآرڈینیٹر افتخار حسین فاروقی، سیکرٹری فنانس غلام جیلانی، سیکرٹری سوشل میڈیا فیصل خواجہ اور ممبران ایگزیکٹو سردار نجم الثاقب، غلام علی خان اور حاجی عبدالغفورکے نام شامل ہیں۔
ضلعی صدور و آرگنائزرز میں ضلع کوٹلی سے نوید انجم عباسی ایڈووکیٹ (صدر)، میر پور سے سید جواد حسین نقوی (جنرل سیکرٹری)، سدھنوتی سے ملک صابر حسین (آرگنائزر)، سردارعبدالقیوم خان (صدر)، ملک اقدس (جنرل سیکرٹری) ضلع پونچھ، سردار ربازایڈووکیٹ (صدر)، مظہر حسین (جنرل سیکرٹری ) ضلع باغ، سردار اشفاق شریف (آرگنائزر)، جمیل عباسی (ڈپٹی آرگنائزر) پنجاب زون، سردار غضنفر ایڈووکیٹ (آرگنائزر) سندہ زون۔ محمد اکرام مجاہد ( آرگنائزر)راولپنڈی زون، شکیل عباسی (آرگنائزر) برطانیہ۔ یورپ، مسعودالرحمن مجددی (صدر)، چوہدری شکیل الزمان (جنرل سیکرٹری)گلف و عرب ممالک، فیاض احمد قریشی (صدر) اور مجتبیٰ احمد ضیاء (جنرل سیکرٹری) شامل ہیں۔


تبصرہ