خادم اعلیٰ بتائیں 20 ہزار میں کون سا کاروبار ہوتا ہے؟ عوامی تحریک پنجاب
پنجاب حکومت نے ناکام منصوبے دینے کا ریکارڈ قائم کر لیا
روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے قومی دولت سیاسی ’’واہ واہ‘‘ پر خرچ ہو رہی ہے
خواتین کو موٹر سائیکلوں سے زیادہ تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے، عائشہ مبشر
لاہور
(7 جنوری 2016) پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال نے کہا ہے کہ خادم اعلیٰ
بتائیں 20 ہزار روپے سے کون سا کاروبار ہوتا ہے؟ 40 ارب روپے کی قرض سکیم در حقیقت
حکمران جماعت کیلئے پولنگ ایجنٹ کا کردار ادا کرنے والوں کا معاوضہ ہے۔ قومی دولت کو
سیاسی’’واہ واہ‘‘ پر برباد کیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے،
نوجوانوں کو روزگار دینے اور معاشی سر گرمیوں میں اضافہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام
ہو چکی ہے اور عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے کبھی گرین ٹریکٹر سکیم کبھی پیلی ٹیکسی
لائی جاتی ہے اورکبھی گریجوایٹ نوجوانوں کو زرعی زمین دینے کا چکمہ دیا جاتا ہے، یہ
ساری سکیمیں ناقص ہونے کی وجہ سے ناکام ثابت ہوئیں۔ پنجاب حکومت نے ناکام منصوبے دینے
کاریکارڈ قائم کر لیا۔ انہوں نے کہاکہ حکمران پنجاب اور وفاق کے محکموں کی لاکھوں خالی
اسامیاں پر کریں۔ خالی اسامیاں پر ہو جائیں تو فوری طور پر 10لاکھ افراد کو اس کا فائدہ
پہنچے گا۔
دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات عائشہ مبشر نے کہا ہے کہ خواتین کو موٹرسائیکلوں سے زیادہ تعلیم اور روزگار کی ضروت ہے۔ خواتین کو سکوٹیز یا موٹر بائیک دینا خادم اعلیٰ کا نیا ڈرامہ ہے، کسی پیارے کی فرم کے موٹر سائیکل بکوانے کیلئے یہ ڈھونگ رچایا گیا ہے، اس کا نتیجہ بھی خزانے کی تباہی، کرپشن، کمیشن اور کک بیکس کی صورت میں برآمد ہو گا، انہوں نے کہاکہ لاہور کے جرائم زدہ ماحول میں خواتین کا موٹر بائیک چلانا کسی صورت محفوظ نہیں ہے حکمران خواتین کو سفری سہولیات سے محروم کر کے سکوٹیز ڈرامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خادم اعلیٰ جواب دیں خواتین کیلئے جو پنک بسیں شروع کی گئی تھیں وہ کہاں گئیں ؟ یہ ڈرامہ کیسے فلاپ ہوا۔


تبصرہ