حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت مولانا شیرانی اور طاہر اشرفی کولڑوایا: شہزاد نقوی
مولانا شیرانی نے 34 ملکی اتحاد پر تنقید کی تو طاہر اشرفی کے ذریعے جواب دیا گیا، ڈپٹی چیف آرگنائزر پی اے ٹی
لاہور
(30 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی چیف آرگنائزر شہزاد نقوی نے مولانا شیرانی
اور طاہر اشرفی کے درمیان پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے
کہا کہ علمائے کرام کے دست و گریباں ہونے کے اس واقعہ سے اسلام پسند عوام کو ذہنی صدمہ
پہنچا کہ امن، شائستگی کا درس دینے والے انتہائی عامیانہ انداز سے اپنے اپنے نکتہ نظر
کو ایک دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جھگڑے کے پیچھے اصل
کردار حکومت وقت کا ہے۔ مولانا شیرانی نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 34ملکی
اتحاد پر حکومتی خواہش اور سوچ سے متصادم بیان دیا تھا جس کا بدلہ لینے کیلئے مولانا
طاہر اشرفی کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ سیاسی بیان کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی جس
پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پوری قوم کی نظریں
علماء کے رویوں پر مرکوز ہوتی ہیں۔ علمائے کرام کا ٹائٹل استعمال کرنے والے رائے اور
ردعمل دیتے وقت اپنے اپنے منصب کا خیال رکھا کریں۔


تبصرہ