حرام کی کمائی کو حلال بنانے کیلئے حکمران آرڈیننس لارہے ہیں: عوامی تحریک
کالے دھن کو سفید کرنے کے اس پیکیج کا سب سے زیادہ فائدہ معاشی
دہشتگردوں کو ہو گا
دیکھتے ہیں لوٹ مار کو تحفظ دینے والے اس پیکیج کے خلاف پارلیمنٹ کیا کردار ادا کرتی
ہے
موجودہ دور میں بھتہ خوروں، کمیشن خوروں اور ٹیکس چوروں کی موج لگی ہوئی ہے
لاہور
(29 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے کہا ہے کہ
حرام کی کمائی حلال بنانے کیلئے حکمران آرڈیننس لارہے ہیں، کالے دھن کو سفید کرنے کے
اس مبینہ پیکیج کا سب سے زیادہ فائدہ معاشی دہشتگردوں کو ہو گا، دیکھتے ہیں لوٹ مار
کو تحفظ دینے والے اس ’’کالے پیکیج ‘‘کے خلاف پارلیمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے؟وہ گزشتہ
روز مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران
جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو بھاری قرضے لیکر دھڑا دھڑ میگا منصوبے شروع کرتے ہیں
اور ان منصوبوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے بھاری کمیشن کو ٹھکانے لگانے کیلئے پیکیج
لاتے ہیں جو قوم کے ساتھ ظلم اور احتساب کے اداروں اور قوانین کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1فیصد ادا کر کے 5 کروڑ کے کالے دھن کو سفید کرنے کا یہ پیکیج کرپشن،
لوٹ مار کو تحفظ دینے کی شرمناک حرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران کرپشن اور
لوٹ مار میں پورے جنوبی ایشیاء میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔
پاکستان عوامی تحریک کے چیف کوآرڈینیٹر میجر(ر) محمد سعید، صوبائی صدر بشارت جسپال اور فیاض وڑائچ نے کہا کہ غریب کے منہ سے سستی روٹی کا نوالہ چھیننے والے حکمرانوں کی ہر پالیسی قومی لٹیروں کیلئے ہوتی ہے۔ داتا صاحب کے صحن میں بیٹھ کر لنگر بانٹنے والے وزیر خزانہ کو ایسی پالیسیاں اور پیکیج بناتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لٹیروں، ٹیکس چوروں، کمیشن خوروں، بھتہ خوروں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑنے کی بجائے انہیں قانونی تحفظ دیا جارہا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا یہ کہنا درست ثابت ہورہا ہے کہ حکومت میں معاشی دہشتگردوں کے سپورٹرز بیٹھے ہوئے ہیں اوریہ لٹیروں کیلئے پالیسیاں اور منصوبے بناتے ہیں۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں بھتہ خوروں، کمیشن خوروں اور ٹیکس چوروں کی موج لگی ہوئی ہے۔


تبصرہ