حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر پاکستان عوامی تحریک کا حقائق نامہ
2015: حکومت قومی ایکشن پلان سمیت 4 اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی
سپریم کورٹ نے شجاعت عظیم کو عہدے سے ہٹایا وزیر اعظم نے ائیر لائنز کارپوریشنز کا کنونئیر بنا دیا
ایک سال میں 3 ارب ڈالر بیرونی، 9سو ارب اندرونی بنکوں سے قرضہ لیا گیا، لوڈشیڈنگ میں اضافہ
کرپشن کے 150میگا سکینڈلز میں کوئی بڑی مچھلی نہ پکڑی جا سکی، 480 ارب کی بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں
72 کروڑ ڈالر سمگل ہوئے، حکومتی اخراجات میں 350 ارب کا اضافہ، 5 سو احتجاجی مظاہرے ہوئے، حقائق نامہ
لاہور
(20 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر
جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت قومی ایکشن پلان، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ،
غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے 4اہم اہداف حاصل کرنے
میں نا کام رہی۔ رپورٹ کے مطابق معاشی دہشتگردی کے خلاف جاری رینجرز آپریشن کو متنازعہ
بناناگورننس کے محاذ پر حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ سال 2015 میں 3 ارب ڈالر کے
غیر ملکی قرضے اور 900 ارب کے مقامی قرضے لے کر قومی خزانے پر بوجھ بڑھایا گیا۔ کرپشن
کے 150 میگا سکینڈلز میں سے کسی ایک پر بھی بڑی مچھلی کو سزا نہیں ملی، 480 ارب کے
گردشی قرضوں کی ادائیگی میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں اور کسی نے ذمہ داری قبول نہیں
کی۔ لوڈ شیڈنگ کا یومیہ دورانیہ 14گھنٹے رہاجبکہ گزشتہ سال کی نسبت گیس لوڈشیڈنگ اور
کم پریشر میں اضافہ ہوا، گیس کے نرخوں میں 38فی صد اضافہ کر کے عوام دشمنی کی گئی۔
عوام کو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم رکھا گیا۔
2015 میں بھی حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے شہدا کے ورثا کو انصاف دینے میں ناکام
رہی۔ رپورٹ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے جاری کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال میں 72کروڑ ڈالرز کی سمگلنگ ہوئی۔ نیب نے صوبائی وزیر تعلیم پنجاب کے خلاف 20 ارب کی خورد برد پر انکوائری کا اعلان کیا مگر کسی کوشامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ چائنا پاکستان کوریڈور کی تعمیر میں 1 ارب ڈالر کی بے ضابطگی سامنے آئی مگر کسی ادارے نے نوٹس نہیں لیا۔ حکومتی اخراجات میں350 ارب اضافہ ہوا، 40 ارب روپے کے ماورائے پارلیمنٹ ٹیکس لگا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ 500 ملین ڈالر کے یورو بانڈ کی متنازعہ فروخت کے ذریعے قومی خزانے کو 450 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا۔ آئی ڈی پیز کی بحالی اور کاشتکاروں کے نقصانات کے ازالے میں حکمران ناکام رہے۔
سال 2015 میں بلدیاتی انتخابات میں بد ترین دھاندلی کی گئی۔ حکومت نے سزا یافتہ شخص کو پی آئی اے کا سربراہ بنا کر قومی ادارے کے خسارے میں اضافہ کیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے شجاعت عظیم کو عہدہ سے ہٹایا گیا مگر وزیر اعظم نے انہیں پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ کا کنونیئر مقرر کر کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی توہین کی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی نجکاری پالیسی اور عوام دشمن اقدامات کے باعث سال 2015 میں ملک بھر میں ملازمین، لیبر یونینز اور عوامی، سیاسی، سماجی حلقوں کی طرف سے 5سو سے زائد اجتماعی مظاہرے کئے گئے۔


تبصرہ