34 ملکی اتحاد میں تمام مسلم ممالک شامل کیوں نہیں؟ ڈاکٹر حسین محی الدین
کرپشن میں لتھڑی بانجھ مقتدر سیاسی قیادت کے رحم و کرم پر نہیں
چھوڑے جا سکتے
سپورٹ کا بلینک چیک دینے سے قبل ممکنہ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے
لاہور
(20 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سینئر مرکزی راہنما ڈاکٹر حسین محی الدین نے
کہا ہے کہ 34 ملکی اتحاد پر کچھ سوالات جواب طلب ہیں، اس اتحاد کا مقصد دہشتگردی کا
خاتمہ ہے توپھر تمام مسلم ممالک اس میں شامل کیوں نہیں؟ پاکستان کسی کواپنی سپورٹ کا
بلینک چیک دینے سے قبل ہر پہلو اور ممکنہ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ جلد بازی
میں کئے گئے فیصلے ملک کو کسی نئی آزمائش سے دو چار کر سکتے ہیں۔ وہ گذشتہ روز پاکستان
عوامی تحریک کے ضلعی صدور کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہاکہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ 34 ملکی مبینہ اتحاد کی غرض و غایت کیا ہے؟ اور اس ضمن میں اگر پاکستان کو شمولیت کی دعوت دی گئی تو پاکستان سے کیا توقعات وابستہ کی گئی ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ شخصی سطح پر قائم دوستیاں ملکی اور قومی مفادات سے بالاتر نہیں ہونی چائیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی غیر فعالیت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ صرف اور صرف آئینی احتجاج کرنیوالوں اور حق مانگنے والے مظلوموں کے خلاف اکٹھی ہوتی ہے۔ جب بھی ملک و قوم کے مفادات سے متعلق کوئی ایشو ہو تو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس’’ متفقہ مفادات‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 34 ملکی اتحاد کے مقاصد سے متعلق عالم اسلام کا ہر فرد فکر مند ہے۔ کرپشن میں لتھڑی بانجھ مقتدر سیاسی قیادت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ قوم عسکری قیادت سے وطن عزیز کے تحفظ اور استحکام کے ضمن میں نظر آنے والا آئینی کردار ادا کئے جانے کی توقع رکھتی ہے۔


تبصرہ