لودھراں پولیس کی طرف سے ڈاکٹر حسن محی الدین کے قافلے کو روکنا قابل مذمت ہے، ترجمان عوامی تحریک
پولیس حکمران جماعت کے امیدوار کی باڈی گارڈ بننے کی بجائے عوام
کی محافظ بنے
عوامی تحریک کے امیدوار خواجہ عامر فرید کوریجہ کی انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا
ہے، خرم نواز گنڈا پور
لاہور
(20 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے لودھراں میں پولیس کی طرف سے سینئر
مرکزی رہنماء ڈاکٹر حسن محی الدین کے قافلے کو روکے جانے اور ہراساں کرنے کی شدید الفاظ
میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ لودھراں پولیس حکومتی امیدوار کو باڈی گارڈ بننے کی بجائے
عوام کی محافظ بنے اور سیاسی عمل سے دور رہے۔ دھاندلی کے ایکسپرٹ حکمران اپنے جعلی
ڈگری اور جعلی اثاثوں والے امیدوار کو جتوانے کیلئے پولیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ترجمان
نے کہاکہ لودھراں پولیس منفی رویے کے باعث کاکرنوں میں شدید اشتعال ہے کسی بھی نا خوشگوار
واقعہ کے ذمہ دار ڈی پی او لودھراں اور آئی جی پنجاب ہونگے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان
عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری خواجہ عامر فرید کوریجہ NA-154 لودھراں میں ضمنی
الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور سینئر رہنما ڈاکٹر حسن محی الدین صوبائی صدر جنوبی پنجاب
فیاض وڑائچ و دیگر رہنما لودھراں میں انتخابی مہم میں شریک ہیں اور پولیس عوامی تحریک
کے امید وار کی انتخابی مہم میں روڑے اٹکارہی ہے۔
دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے لودھراں پولیس کے نازیبا رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ملتان، لودھراں اور بہاولپور کے ڈی پی اوز، ڈی سی اوز این اے 154 میں ہیں۔ جعلی ڈگری اور جعلی اثاثوں والے ن لیگ کے امیدوار کو ہر حال میں جتوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی انتخابی دھاندلیوں کے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کر رہے ہیں مگر الیکشن کمیشن ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔


تبصرہ