مشروط اجازت سے ڈاکٹر عاصم جیسی بڑھ مچھلیاں قابو نہیں آئینگی: عوامی تحریک
افسوس قومی ایکشن پلان کو متنازعہ بنانے کیلئے 16دسمبر کا دن چنا گیا
آپریشن اپیکس کمیٹیوں کی نگرانی میں ہونا چاہیے، خرم نوازگنڈاپور، بریگیڈئر(ر) مشتاق احمد
لاہور
(16 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں خرم نوازگنڈاپو، نے سندھ اسمبلی کی
قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کی گرفتاری کیلئے پیشگی اجازت کی قدغن
سے ڈاکٹر عاصم جیسی بڑی مچھلیاں قابو نہیں آئینگی افسوس معاشی دہشتگردی کی روک تھام
کیلئے آپریشن کے حوالے سے قومی ایکشن پلان کو متنازعہ بنانے کیلئے 16 دسمبر کا دن چنا
گیا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کے پیچھے شریف برادران کا دماغ ہے۔ وہ پنجاب میں ممکنہ
آپریشن کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو بطور
حوالہ استعمال کرینگے۔ آپریشن اپیکس کمیٹیوں کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ شمالی پنجاب
کے صدر بریگیڈیئر (ر) محمد مشتاق نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بہت پہلے کہہ دیا
تھا قومی ایکشن پلان پر دستخط کرنے والے ہی اسے ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی
سکیورٹی کے معاملہ کو قرارداد سے منسلک کرکے سیاسی معاملہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔ بے
اختیار رینجرز کسی بھتہ خور، ٹارگٹ کلر اور دہشتگردی کے مالی سپورٹرز پر ہاتھ نہیں
ڈال سکیں گے۔ افسوس پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین آپریشن پر حکمران اور سکیورٹی فورسز
ایک پیج پر نہیں۔ ڈپٹی چیف آرگنائزر شہزاد حسین نقوی نے کہا کہ بے اختیار رینجرز کا
آپریشن وقت اور وسائل کا ضیاع ہو گا۔ اس واردات کے پیچھے ن لیگ ہے۔ سندھ اسمبلی کی
قرارداد سے ثابت ہو گیا کہ مقتدر حکمران کسی بڑی مچھلی کو گرم ہوا نہیں لگنے دینگے۔


تبصرہ