پی اینڈ ڈی نے انتخابی مہم کے دوران 5 ارب کے ترقیاتی فنڈز جاری کروائے
خراب لااینڈ آرڈر کے باعث 29 قتل 378 زخمی ہوئے : الیکشن سیل پی
اے ٹی
اپوزیشن امیدواروں کو غلط ووٹر لسٹیں دی گئی، آر اوز نے نتائج تبدیل کیے
عوامی تحریک نے بلدیاتی الیکشن کے تینوں مراحل میں ہونے والی دھاندلی پر رپورٹ جاری
کردی
لاہور
(06 دسمبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے تینوں مراحل میں
ہونے والی دھاندلیوں، بے ضابطگیوں پر جائز ہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی
کی بنیاد پر قائم ہونے والے ریموٹ کنٹرول ادارے عوام کی کوئی خدمت نہیں کرسکیں گے۔
لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی نا پسندیدہ قانون سازی سے لیکر حلقہ بندیاں اور انتخابی نتائج
مرتب ہونے تک پنجاب حکومت نے قوانین کی دھجیاں اڑائیں، جمہوری اقدار کو پامال اور رائے
عامہ کی توہین کی۔ الیکشن غیر شفاف اور بد عنوانیوں، بے ضابطگیوں سے بھرے ہوئے تھے
14 نکات پر مشتمل جائزہ رپورٹ پاکستان عوامی تحریک کے 7 رکنی الیکشن سیل نے جاری کی
جس میں خرم نواز گنڈا پو ر، میجر (ر)محمد سعید، بشارت جسپال، بریگیڈیئر (ر)محمد مشتاق،
فیاض وڑائچ، نور اللہ صدیقی اور ساجد بھٹی شامل تھے۔
رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت نے من مانیاں کی اور الیکشن کمیشن نے تماشائی کا کردار ادا کیا، خراب لا اینڈ آرڈر کے باعث انتخابی رنجش کے نتیجہ میں تینوں مراحل میں 29 قتل ہوئے اور 378 زخمی ہوئے پولیس انہیں خاندانی دشمنی قرار دے کر نظر انداز کرتی رہی۔ حکومتی دھاندلیوں پر مبنی 14نکاتی رپورٹ کے مطابق
- 341 ارب کا کسان پیکیج بد نیتی کی بنا پر جاری کیاگیا، قومی خزانہ سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوا۔
- انتخابی مہم کے آغاز پر ہر حکومتی رکن صوبائی اسمبلی کو 2کروڑ روپے صوابدیدی فنڈ دیے گئے۔
- پی اینڈ ڈی نے انتخابی مہم کے دوران 5ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ کی منظوری دی۔
- اپوزیشن امیدواروں سے آخری مرحلہ تک پولنگ سکیمیں خفیہ رکھی گئی، اپوزیشن امیدواروں کو کوئی اور حکومتی امیدواروں کو کوئی او ر ووٹر فہرستیں فراہم کی گئی۔
- گھوسٹ پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔
- آراوز نے نتائج میں ردوبدل کیا
- ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ٹرانسفر ہوئے
- پسند اور ناپسند کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی گئیں۔
- اپوزیشن امیدواروں کے بیلٹ پیپر ز پر غلط انتخابی نشانات پرنٹ کروائے گئے۔
- ریو نیو، پولیس اور پی اینڈ ڈی کو بطور خاص دھاندلی کے لیے استعمال کیا گیا۔
- چن چن کر کرپٹ اور حاشیہ بردار انتخابی عملہ تعینات کروایا گیا۔
- وزیراعظم اور وزیراعلیٰ انتخابی مہم کے دوران قومی پیسے سے الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر تشہیری مہم چلاتے رہے۔
- انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کرنے والے غیر جانبدار غیر سیاسی ادارے فافن کو مانیٹرنگ کے حوالے سے محدود کیا گیا۔
- پہلے دومراحل کے اختتام پر دھاندلی کی شکایات لیکر الیکشن کمیشن اورآراوزکے پاس لے کر جانے والوں کی تذلیل کی گئی۔
عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ الیکش غیر شفاف ہیں ثبوت موجود ہیں انہیں عدالت میں ضرور چیلنج کریں گے۔


تبصرہ