عوامی تحریک کی لودھراں میں انتخابی مہم تیز کر دی، فوج کی تعیناتی کا مطالبہ
سربراہ عوامی تحریک کی طرف سے سینئر عہدیداروں کو الیکشن تک حلقہ
میں موجود رہنے کی ہدایت
ناانصافی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے عوام عوامی تحریک کوووٹ دیں، انتخابی میٹنگ
سے خطاب
لاہور
(23 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک نے این اے 154 لودھراں میں انتخابی مہم تیز کر
دی ہے اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل و ٹکٹ ہولڈر خواجہ عامر فرید کوریجہ نے فوج کی نگرانی
میں ضمنی الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے
تمام سینئر عہدیداروں، ونگز کے صدور اور جنوبی پنجاب کی تنظیموں کو خواجہ عامر فرید
کوریجہ کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے اور الیکشن تک حلقے میں رہنے کی ہدایت کی
ہے۔ عوامی تحریک کے ٹکٹ ہولڈر خواجہ عامر فرید کوریجہ نے گزشتہ روز حلقہ کے مختلف 5
مقامات پر انتخابی دفاتر کا افتتاح کیا اور اس موقع پر انتخابی کارنر میٹنگ سے خطاب
کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تحریک اقتدار کیلئے نہیں اقدار اور عوام کے وقار کیلئے سیاسی
جدوجہد کررہی ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہوں کا خون بہانے والے حکمران ملک و قوم سے مخلص
نہیں۔ یہ عوام کاجان و مال نہیں صرف ’’مال ‘‘ محفوظ کررہے ہیں۔ ناانصافی اور انتہا
پسندی کے خاتمہ کیلئے عوام عوامی تحریک کو ووٹ دیں۔ لودھراں کے عوام دولت اور حکومتی
غنڈہ گردی کو مسترد کردیں گے۔ ملکی مسائل کا حل ڈاکٹر طاہرالقادری کے 10 نکاتی انقلابی
ایجنڈے میں ہے۔ تکبر، غرور اور دولت کے بت پاش پاش کرنے کا وقت آگیا۔
پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے کہا ہے کہ عوامی تحریک ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے اس نظام کے خلاف لڑرہی ہے۔ عوامی تحریک واحد جماعت ہے جس کے کارکنوں نے ظالمانہ نظام کے خلاف لڑتے ہوئے جانیں دیں اور ریاستی جبرو تشدد ان کے حوصلوں کو توڑ نہیں سکا۔ ایماندار قیادت ہی ملک و قوم کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام ہر قسم کی غلامی کی زنجیریں توڑدے اور غریب عوام کی خوشیاں چھیننے والوں کی منفی سیاست کو مسترد کر دیں۔
جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ نے انتخابی میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ عامر فرید کوریجہ اسی خطہ اور دھرتی کا بیٹا ہے۔ جس کے دل میں خطہ کے عوام اور پاکستان کا درد ہے۔ درد مند قیادت ہی غریب عوام کے مسائل کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران قومی دولت الیکشن جیتنے کیلئے پانی کی طرح بہارہے ہیں۔ ہم ظالم حکمرانوں کا غریب عوام سے ملکر مقابلہ کررہے ہیں اور نظام کی تبدیلی تک کرتے رہیں گے، جب یہ نظام بدلے گا تو غریب کو اس کے آئینی حقوق ملیں گے۔ عوام ظلم کے خلاف لڑنے والے اور ظلم کو تقویت دینے والوں کے درمیان فرق کریں۔


تبصرہ