دھاندلی کی روک تھام کیلئے آل اپوزیشن اے پی سی بلائی جائے، خرم نواز گنڈا پور
دھاندلی سے جمہوری ادارے کمزور ہو رہے ہیں، فافن کی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے، عوامی تحریک
لاہور
(22 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک نے دھاندلی کی روک تھام اور عوامی مینڈیٹ کی حفاظت
کیلئے آل اپوزیشن اے پی سی بلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور بلدیاتی انتخابات کے دوسرے
مرحلہ میں ہونے والی دھاندلی پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے اور دوسرے مرحلہ کو بھی غیر
شفاف قرار دیا ہے۔ دھاندلی سے متعلق یہ رپورٹ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری
جنرل خرم نواز گنڈا پور کی طرف اجلاس میں جاری کی۔ مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس
میں سنیئر رہنماؤں میجر (ر) محمد سعید، بشارت جسپال اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور
اللہ صدیقی، ساجد بھٹی، راجہ زاہدنے شرکت کی۔ رہنماؤں نے کہاکہ پولنگ ڈے جمہوریت اور
قوانین کی توہین کرنے کے دن میں تبدیل ہو چکا ہے، ایسے انتخابات سے جمہوریت اور جمہوری
ادارے مضبوط نہیں کمزور ہو رہے ہیں۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن کے
دوسرے مرحلے میں بد ترین دھاندلی ہوئی، دھاندلی سے متعلق فافن کی رپورٹ حقائق پر مبنی
ہے۔ الیکشن کمیشن عضو معطل ہے۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہاکہ پہلے مرحلہ میں جو دھاندلی
ہوئی اس کی تفصیلات بارے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا تھامگر اس کا سد باب نہ ہو سکا۔
دوسرے مرحلہ میں پسندیدہ عملہ کی تعیناتی، ڈی آر اوز کی من مانیاں، ووٹوں کی ٹرانسفر،
گھوسٹ پولنگ سٹیشنوں کا قیام، پولیس کی غنڈہ گردی، اپوزیشن امیدواروں کو غلط انتخابی
فہرستوں کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں قومی خزانے کا سیاسی استعمال۔ بیلٹ پیپرز
پر غلط انتخابی نشان کی پرنٹنگ، جعلی ووٹوں کے بلا روک ٹوک استعمال سے لے کر نتائج
میں ردوبدل تک دھاندلی کی ہر شکل کا بے دریغ استعمال ہوا اور اس سارے عمل میں الیکشن
کمیشن کا کردار کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے۔ رہنماؤں نے کہاکہ دھاندلی کی روک تھام کیلئے
اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔


تبصرہ