عوامی تحریک کے پہلے مرحلہ میں 60 دوسرے میں 37 امیدوار کامیاب ہوئے
حکومتی امیدواروں کی جیت کیلئے سرکاری وسائل اور مشینری کا بے دریغ
استعمال ہوا
آئندہ عام انتخابات کے نتائج ن لیگ کی جعلی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکال دیں گے
پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں خرم نواز گنڈا پور، نور اللہ صدیقی، ساجد بھٹی کی پریس
کانفرنس
لاہور
(20 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنماؤں سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا
پور، مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی، سیکرٹری کوآرڈینیشن ساجد بھٹی نے ہنگامی
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عوامی تحریک نے پہلے مرحلہ میں 507 امیدواروں
کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا جن میں 60 کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے مرحلہ میں 370 امیدواروں کو
پارٹی ٹکٹ جاری کیا جن میں 47 امیدوار کامیاب ہوئے ان میں 6چیئرمین بھی شامل ہیں جبکہ
دونوں مرحلوں میں حمایت یافتہ جیتنے والے آزاد امیدواروں کی تعداد 280 ہے۔ بلدیاتی
انتخابات کے نتائج حکمران جماعت کی مقبولیت کا پیمانہ نہیں۔ آئندہ عام انتخابات کے
نتائج ن لیگ کی جعلی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکال دیں گے۔ رہنماؤں نے پریس کانفرنس
میں کراچی میں رینجرز کی موبائل پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت اور رینجرز کے جوانوں
کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔
خرم نواز گنڈا پور نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں مراحل میں لاء اینڈ آرڈر کنٹرول کرنے میں الیکشن کمیشن اور حکومت دونوں ناکام رہے۔ رہنماؤں نے بتایا کہ یونین کونسل 12 منڈی بہاؤ الدین میں عوامی تحریک کے امید وار فیصل گوندل نے بطور چیئرمین پنجاب بھر میں سب سے زیادہ لیڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔
خرم نواز گنڈا پور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی امیدواروں کی جیت کیلئے سرکاری وسائل اور مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پولیس، پٹواری اور غنڈوں کے ذریعے ہمارے امیدواروں کو ہراساں کیا گیا۔ پولنگ ڈے کے موقع پر لاء اینڈ آرڈر غیر تسلی بخش تھا۔ دونوں مراحل میں 15 سے زائد اموات ہوئیں، غلط انتخابی نشان پرنٹ کرنے کا عمل دوسرے مرحلہ میں بھی جاری رہا۔ اپوزیشن امیدواروں کو غلط فہرستیں دی گئیں، گھوسٹ پولنگ سٹیشن بھی قائم کئے گئے، آر اوز نے نتائج جاری کرتے وقت رد و بدل بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو دونوں مراحل میں انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق خطوط لکھے مگر کسی ایک پر بھی نوٹس نہیں لیا گیا۔ نواز لیگ نے اپنے اراکین قومی اسمبلی کو بلدیاتی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران دو کروڑ روپے دے کر پری پول دھاندلی کی۔ وزیراعظم پولنگ ڈے کے دن دیر میں جلسہ عام سے خطاب انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال کے طویل عرصہ کے تعطل کے بعد عوامی تحریک انتخابی عمل کا حصہ بنی، اس انتخابی تجربہ کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر ضلعی صدور کو ن لیگ کے سوا دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی تھی، ہم بالکل مایوس نہیں ہیں، تا ہم نظام کی تبدیلی تک جدوجہد جاری رکھیں گے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
خرم نواز گنڈا پور نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی موجودہ نظام میں جڑیں بہت گہری ہیں۔ انتظامیہ اور بے پناہ سرکاری وسائل انکی دسترس میں ہوتے ہیں۔ ن لیگ کی پہلے دونوں مراحل میں کامیابی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ عوام انکی کاکردگی سے مطمئن ہیں۔ لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، بد امنی اور دہشتگردی کے خاتمہ کے ضمن میں حکومت نے بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور عالمی سروے اور Indicators حکومتی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔


تبصرہ