سانحہ ماڈل ٹاؤن، بھولا گجر قتل کیس کا مرکزی کردار ایک ہی ہے: ترجمان عوامی تحریک
دونوں کیسز کی تفتیش ایسی جے آئی ٹی سے کروائی جائے جس میں پنجاب
پولیس کا کوئی نمائندہ نہ ہو
ماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کے لواحقین انصاف کیلئے اب صرف آرمی چیف کی طرف دیکھ رہے ہیں
پنجاب پولیس قاتلوں کو کلین چٹیں دینے کیلئے تفتیش کے ڈرامے کرتی ہے
لاہور
(16 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور بھولا
گجر کیس کا مرکزی کردار ایک ہی ہے اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب کا ہمراز، دست راست پنجاب
کا وزیر قانون ہے۔ اصل حقائق تک پہنچنے کیلئے دونوں کیسز کی تفتیش ایسی جے آئی ٹی سے
کروائی جائے جس میں پنجاب پولیس کا کوئی نمائندہ شامل نہ ہو۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14
شہداء انصاف کیلئے صرف اور صرف آرمی چیف اور فوجی عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ترجمان
نے کہا کہ پنجاب پولیس پنجاب کے قاتل حکمرانوں کو کلین چٹیں دینے کیلئے تفتیش کا ڈرامہ
رچاتی ہے۔ جو ڈرامہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی نے کیا وہی ڈرامہ بھولا گجر کیس میں
وزیر قانون کا بیان لے کر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلرز مجاز فورمز پر
بیان دیتے ہیں تو بلاتاخیر بیان کی زد میں آنے والے ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے کھڑا
کر دیا جاتا ہے مگر نوید کمانڈو کے بیان کی روشنی میں پنجاب کے وزیر قانون کو سلاخوں
کے پیچھے کھڑا کر کے تفتیش کرنے کی بجائے اس کے پروٹوکول میں اضافہ کر دیا گیا۔ ثابت
ہو گیا پنجاب میں دو قانون ہیں ایک غریب کیلئے اور ایک امیر کیلئے۔ ترجمان نے کہا کہ
اس سے بڑا دکھ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بننے والے جوڈیشل کمیشن کی
رپورٹ کی کاپی لینے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں6 ماہ سے گڑا گڑا رہے ہیں مگر انصاف دور
کی بات ایک رپورٹ کی کاپی نہیں مل رہی اور دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں شہداء
کے لواحقین کے دہشتگردی کی عدالتیں وارنٹ پر وارنٹ نکال رہی ہیں۔


تبصرہ