حکومتی دھاندلی کی روک تھام میں الیکشن کمیشن نے مایوس کیا : ڈاکٹر طاہرالقادری
لوکل گورنمنٹ کی خلاف آئین منظوری سے لے کر انتخابی نتائج مرتب
ہونے تک دھاندلی ہوتی رہی
سربراہ عوامی تحریک نے بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلہ کی مانیٹرنگ کیلئے کمیٹی قائم
کر دی
مشکوک مینڈیٹ والے کو پھر سے پارلیمنٹ کا کسٹوڈین بنانا پارلیمنٹ کی توہین نہیں؟ سربراہ
عوامی تحریک

لاہور (15 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حکومتی دھاندلی کی روک تھا م میں الیکشن کمیشن نے مایوس کیا۔ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی خلاف آئین منظور ی سے لے کر انتخابی نتائج مرتب ہونے تک دھاندلی کی گئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلہ کی مانیٹرنگ کے حوالے سے عوامی تحریک کی طرف سے تشکیل دی جانیوالی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انتخابی کمیٹی میں سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور، میجر (ر) محمد سعید، بشارت جسپال، فیاض وڑائچ، بریگیڈئر(ر) مشتاق لِلہ شامل ہے۔ یہ مرکزی کمیٹی مزید سب کمیٹیاں تشکیل دے کر یونین کونسل کی سطح پر انتخابی مہم اور الیکشن امور کی نگرانی کرے گی۔ سربراہ عوامی تحریک نے سنیئر تجزیہ نگاروں کی طرف سے حلقہ این اے 122میں راتوں رات 30ہزار ووٹ منتقل کئے جانے کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ چیف الیکشن کمشنر نے اسکا نوٹس نہ لیا اور کارروائی نہ کی تو وہ اس جرم میں شریک تصور کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایک جعلی مینڈیٹ والے سپیکر کو پھر دوبارہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ سپیکر بنوانا اس ظالم نظام کی نحوست ہے۔ مشکوک مینڈیٹ والے شخص کا پارلیمنٹ کا کسٹوڈین بننا پارلیمنٹ کی توہین نہیں ؟۔ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلہ میں حکومت دھاندلی کرنے میں کامیاب رہی، دوسرے مرحلے میں حکومتی دھاندلی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے کڑی نگرانی کی جائے اور کارکنوں کی اور ووٹرز کی تربیت کی جائے۔ کارکنوں اور ووٹرز کو دھاندلی کے سد باب کیلئے با خبر رکھا جائے اس کیلئے الیکشن آگاہی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھاندلی کا آغاز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی خلاف آئین منظوری سے کیا۔ بعد ازاں پسندیدہ حلقہ بندیاں، ووٹر لسٹوں میں رد وبدل اور منظور نظر انتخابی عملہ کی تقرریوں، قومی خزانے کے بے دریغ سیاسی استعمال اور انتخابی نتائج میں رد و بدل کے ذریعے بد ترین دھاندلی کی گئی۔ کارکنوں کو حکومتی دھاندلی کی ہر شکل کو بے نقاب کرنے اور ناکام بنانے کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے موجودہ نظام دھاندلیوں اور بد عنوانیوں کو تحفظ دیتا ہے جسے بدلنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔


تبصرہ