پنجاب جرائم میں نمبرون، وزیر اعلیٰ پنجاب کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، ترجمان عوامی تحریک
لاہور
(12 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں چاروں
صوبوں میں ہونے والے جرائم سے متعلق پیش ہونے والی رپورٹ ہوشربا اور پنجاب کے حکمرانوں
کی گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ ہے، پورے ملک میں ہونے والے جرائم کا 80فی صد پنجاب
میں ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ترجما ن نے کہاکہ 5سالوں میں ملک بھر میں چوری کے 3 لاکھ 74
ہزار مقدمات درج ہوئے جن میں سے 3 لاکھ 10 ہزار پنجاب میں درج ہوئے، راہزنی کی 1 لاکھ
20 ہزار وارداتوں میں 93 ہزار وارداتیں پنجاب میں ہوئیں جو لاقانونیت کا ناقابل تردید
ثبوت ہے۔ ترجمان نے کہاکہ اصل اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ خوفناک ہیں، کیونکہ 70فی
صد وارداتیں رپورٹ ہی نہیں کی جاتیں۔ ترجمان نے کہاکہ صوبہ کی پولیس عوام کے جان و
مال کے تحفظ کی بجائے صرف حکمرانوں کا تحفظ کرتی ہے اور حکمرانوں کیلئے سیاسی خطرہ
بننے والوں کو راستے سے ہٹاتی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن اس کی بد ترین مثال ہے۔ ترجمان نے
کہاکہ جس صوبہ کے حکمران کی ترجیحات میں لاء اینڈ آرڈر اور عوام کے جان و مال کے تحفظ
کی بجائے میٹرو اور اورنج منصوبے ہوں اس صوبہ میں شہری چوروں، ڈاکوؤں سے اپنی جمع پونجی
کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں بلا مبالغہ کہا
جا سکتا ہے کہ پنجاب علاقہ غیر میں تبدیل ہو چکا ہے اور صوبہ پر 8سال سے مسلسل برسر
اقتدار وزیر اعلیٰ کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی اس رپورٹ کے بعد اپنے عہدے سے
مستعفی ہو جانا چاہیے۔


تبصرہ