عوامی تحریک نے بھی دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے
بد ترین دھاندلی ہوئی، ریٹرننگ افسروں نے اپنے جاری کردہ نتائج
کی بھی پروا نہیں کی
یوسی 242 میں 269 ووٹ لینے والے امیدوار کی بجائے 200 ووٹ لینے والے کو فاتح قرار دے
دیا
لاہور
(11 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک نے بھی بلدیاتی الیکشن میں حکومتی دھاندلیوں کے
ثبوت الیکشن کمیشن کو ارسال کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نے الیکشن کمیشن کو فراہم کئے جانے والے ثبوتوں کے بارے
میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ یوسی 242 وارڈ نمبر 2میں عوامی تحریک کے حمایت
یافتہ امیدوار ایم اسلم نے سب سے زیادہ 269 ووٹ حاصل کئے اور ریٹرننگ آفیسر سید اسد
رضا کاظمی نے انہیں دستخط شدہ رزلٹ کی کاپی بھی دی مگر فاتح جنرل کونسلر کے طور پر
200 ووٹ لینے والے اسلم مسیح تبسم کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا۔ اسی طرح یوسی 245
لاہور سے چیئرمین کا الیکشن لڑنے والے ہمارے حمایت یافتہ امیدوار منظور حسین بھٹی اور
وائس چیئرمین کے امیدوار شوکت ڈیال کو 510 نمبر تک پولنگ سکیم دی گئی جبکہ جیتنے والے
حکومتی امیدوار کے پاس 521 نمبر تک پولنگ سکیم موجود تھی۔ یعنی حکومتی امیدواروں کو
کوئی اور پولنگ سکیم دی گئی اور اپوزیشن امیدواروں کو کوئی اور پولنگ سکیم دی گئی،
پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان نور اللہ صدیقی نے کہاکہ لاہور میں ہمارے امیدواروں
کو نتائج کی جو کاپی دی گئی بعد ازاں اس میں رد و بدل کر کے ہارے ہوئے امیدواروں کو
جتوا دیا گیا جو اپنی نوعیت کی لا قانونیت اور بد ترین دھاندلی ہے، اسی طرح کی شکایات،
چکوال، بھکر، حویلی لکھا، قصور اور اوکاڑہ سے بھی موصول ہوئیں۔ ترجمان نے کہاکہ ہم
نے لاہور کے تمام بلدیاتی الیکشن کالعدم قرار دینے کی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے اور
آئندہ سماعت پر دھاندلی کے ناقابل تردید ثبوت عدالت کو دیں گے ان ثبوتوں کی ایک کاپی
الیکشن کمیشن آفس پنجاب کو بھی فراہم کر رہے ہیں۔


تبصرہ