دھرنے نے حکمرانوں کی گردن کا سریہ نکالا، اب پھر ’’اکڑاؤ‘‘ پیدا ہو رہا ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
آئی ایم ایف کے قرضے الیکشن جیتنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں،
منصف مصلحتوں کا شکار ہیں؟
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا کیس فوجی عدالت میں چلایا جائے، خواجہ عامر فرید کوریجہ
سے گفتگو

لاہور (10 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ انقلاب مارچ اور دھرنے نے حکمرانوں کی گردن کا سریہ نکالا، اب پھر انکی گردنوں میں ’’اکڑاؤ‘‘ پیدا ہورہا ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کے خلاف احتجاج قانونی تھا، ڈیڑھ سال سے انصاف کے منتظر14بے گناہوں کے وارثوں کا مطالبہ ہے کیس مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے، آئی ایم ایف کے قرضے انتخابی دھاندلیوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، منصف مصلحتوں کا شکار ہیں۔ وہ گذشتہ روز ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور این اے 154 لودھراں سے پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار خواجہ عامر فرید کوریجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ قاتلوں کے امیدوار کا ہر جگہ ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے، حسینی تعداد میں تھوڑے بھی ہوں تو یزیدی لشکر پر بھاری ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی کوئی الیکشن آتا ہے تو دھاندلی برادران قومی خزانے کے منہ کھول دیتے ہیں۔ غیر ملکی قرضے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں جس کا بھاری سود آئیندہ نسلیں ادا کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کو برسر اقتدار آئے اڑھائی سال کا عرصہ گزر گیا، بلدیاتی انتخابات اور لودھراں کے ضمنی الیکشن کے موقع پر ہی کسان پیکج یاد کیوں آیا؟ الیکشن کمیشن بطور ادارہ اسکا نوٹس لینے کی بجائے حکمرانوں کا ترجمان بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ ظالم حکمرانوں کے گنتی کے دن باقی رہ گئے یہ جیسے ہی اقتدار سے رخصت ہوئے قومی خزانے کی لوٹ مار اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس ان کا استقبال کرے گا اور انکی باقی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزرے گی۔
انہوں نے کہاکہ حکمران قومی ایکشن پلان فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ کر الیکشن الیکشن کھیل رہے ہیں، ملک اندرونی و بیرونی خطرات کی زد پر ہے مگر حکمرانوں کی ساری توجہ دھاندلی کے منصوبے بنانے، قومی خزانے کے سیاسی استعمال اور اقتدار بچانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے عوامی تحریک کے قائدین اور تمام فورمز کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلہ اور لو دھراں کے ضمنی الیکشن پر اپنی توجہ مرکوز کریں اور عوام کے سامنے قاتل اور ظالم حکمرانوں کو بے نقاب کریں۔


تبصرہ