شہباز حکومت بتائے 8 سالوں میں پنجاب میں کتنی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی؟ عوامی تحریک
2008 میں ترقی کی سالانہ شرح 7فی صد آج کم ہو کر 4فی صد سے نیچے آ گئی
150معاہدے نیا جھوٹ اور سیاسی سٹنٹ ہے، صوبائی صدر بشارت جسپال کا خطاب
سندر کی ایک فیکٹری سنبھالنے میں ناکام حکمران عوام کو کب تک بے وقوف بنائیں گے؟
لاہور
(8 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ
پنجاب بتائیں انکے مسلسل 8سالہ دور حکومت میں پنجاب میں کتنی غیر ملکی سرمایہ کاری
ہوئی اور عوامی خدمت کے کتنے منصوبے ان 8سالوں میں بیرونی سرمایہ کاری سے مکمل ہوئے؟
150کاروبای معاہدے نیا جھوٹ اور سیاسی سٹنٹ ہے، لوڈ شیڈنگ اور کرپشن کی وجہ سے مقامی
سرمایہ کار اپنا کاروبار بیرون ملک شفٹ کر چکے ہیں۔ وہ گذشتہ روز بلدیاتی الیکشن کے
دوسرے مرحلہ کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، اجلاس میں شمالی
پنجاب کے صدر بریگیڈئر(ر) محمد مشتاق، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ شریک تھے۔ بشارت
جسپال نے کہاکہ پنجاب میں2008میں جب شہباز حکومت برسر اقتدار آئی تھی تو اس وقت پنجاب
کی ترقی کی سالانہ شرح 7فی صد سے زائد تھی جو اس وقت 4فی صد سے کم رہ گئی۔ پنجاب کے
ذ مہ کوئی غیر ملکی قرضہ واجب الادا نہیں تھا جو اس وقت 5سو ارب سے بڑھ چکا ہے۔ انہوں
نے کہاکہ لوڈشیڈنگ، کرپشن اور حکومتی بیڈ گورننس کی وجہ سے صنعتی شعبہ بحران کا شکار
ہے اور زراعت کے ساتھ سوتیلی ماں والے سلوک کے باعث پنجاب میں بے روزگاری کاجن بوتل
سے باہر نکل چکا ہے، بشارت جسپال نے کہاکہ شہباز حکومت گزشتہ 8سالوں کی سرمایہ کی تفصیل
قوم کے سامنے لائے تو انکے اقتصادی ویثرن کا پردہ چاک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم
معذرت کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ زیادہ کمیشن اور کک بیکس کیلئے چین اور ترکی کی کمپنیاں
پوری دنیا میں ایک خاص شہرت رکھتی ہیں اسی لئے شریف برادران ان دونوں ملکوں کے ساتھ
کاروبار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندر کی ایک فیکٹری سنبھالنے میں
ناکام حکمران عوام کو کب تک بے وقوف بنائیں گے؟


تبصرہ