لودھراں میں وزیراعظم، وزیراعلیٰ کا جلسہ پری پول دھاندلی ہے: عوامی تحریک
کسان پیکیج کے چیک تقسیم کرنے کیلئے ضمنی الیکشن والے ضلع کا
انتخاب کیوں کیا گیا؟
جلسہ تک الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کا اجراء روک رکھا ہے، خواجہ عامر فرید
کوریجہ
لاہور
(5 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور این اے 154 لودھراں
سے عوامی تحریک کے امیدوار خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ لودھراں میں
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا جلسہ پری پول دھاندلی ہے۔ضمنی الیکشن کے نتائج پر
اثر انداز ہونے کیلئے کسان پیکیج کے چیک اور ڈویلپمنٹ کیلئے بھاری فنڈز دینے کیلئے
وزیراعظم لودھراں آرہے ہیں۔عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کسان پیکیج کے چیک تقسیم کرنے
کیلئے ضمنی الیکشن والے ضلع کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ ۔ وہ گزشتہ روزمرکزی سیکرٹریٹ
میں سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور و دیگر رہنماؤں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا
کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ضمنی الیکشن کروائے جانے سے متعلق فیصلہ آنے کے بعد
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی طرف سے جلسہ کرنا یا کسی قسم کے پیکیج دینا انتخابی
قوانین اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہر مرحلہ پر قوم کو مایوس کیا
اور اب بھی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے جلسہ تک شیڈول جاری نہیں کیا جارہا۔جیسے ہی
یہ جلسہ ہو گا تو شیڈول بھی جاری ہو جائے گا جو افسوسناک رویہ ہے۔اس موقع پر گفتگو
کرتے ہوئے خرم نوازگنڈاپور نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب ضمنی الیکشن
والے ضلع میں جا کر وہاں کی ایڈمنسٹریشن کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کے
امیدوار کو جتوائیں ورنہ وہ پرکشش عہدوں پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا
کہ کسان پیکیج آیا ہی دھاندلی کیلئے تھا حالانکہ اس پیکیج کو کسانوں کی نمائندہ
تنظیموں نے بھی مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ
ضمنی الیکشن کے نتائج تک وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزراء کے انتخابی ضلع کے دوروں پر
پابندی عائد کی جائے اور حکومت کو پیکیج کے نام پر سیاسی رشوت تقسیم کرنے سے روکا
جائے۔ یہ پری پول دھاندلی اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی منصوبہ بندی ہے۔


تبصرہ